بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

مرتد علاتی بھائی سے پردے کا حکم


سوال

الطاف کی دو بیویوں سے تین اولادیں ہیں پہلی بیوی سے دو بیٹیاں اور دوسری بیوی سے ایک بیٹا ہے ۔ الطاف کے انتقال کے بعد بیٹا عیسائی ہوگیااور اسی عیسائیت پر وہ قائم ہے ۔ تو کیا ان علاتی بھائی بہنوں  کا آپس میں پردہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں الطاف کے بیٹے کے ارتداد کے باوجود وہ اپنی علاتی بہنوں کا محرم ہے اور بہنوں کا اپنے بھائی سے پردہ نہیں ہے۔ تاہم، بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کو چاہیے کہ مذکورہ شخص کو دینِ اسلام کی دعوت دیں، اس کے ذہن میں سوالات ہیں تو علماء سے رجوع کر کے انہیں حل کریں، اور اگر وہ اسلام قبول نہ کرنے پر بضد ہو تو اس سے تعلقات وغیرہ نہ رکھیں تاکہ خود کا دین محفوظ رہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته) وشهوتها أيضا ذكره في الهداية فمن قصره على الأول فقد قصر ابن كمال (وإلا لا، لا إلى الظهر والبطن) خلافا للشافعي (والفخذ) وأصله قوله تعالى - {ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن} [النور: 31]- الآية وتلك المذكورات مواضع الزينة بخلاف الظهر ونحوه."

(كتاب الحظر والإباحة، ج6، ص367، سعيد)

مرقاۃ شرح مشکاۃ میں ہے:

"قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة، وهجر جماعة من الصحابة جماعة منهم، وماتوا متهاجرين، ولعل أحد الأمرين منسوخ بالآخر.

قلت: الأظهر أن يحمل نحو هذا الحديث على المتواخيين أو المتساويين، بخلاف الوالد مع الولد، والأستاذ مع تلميذه، وعليه يحمل ما وقر من السلف والخلق لبعض الخلف، ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى."

(كتاب الآداب،باب ما ینهي عنه من التهاجر۔۔۔۔ (8 / 3147)،دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں