بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مرغی کا گوشت صفائی کیے بغیر تولنے کا حکم


سوال

میں نے کل ایک دکان دار سے ایک کلو مرغی خریدی، جس کی قیمت 570روپے تھی۔ مرغی تولنے کے بعد دکان دار نے اس کی صفائی وغیرہ کی، اس کے بعد مجھے دے دی، تو مجھے یہ عجیب لگا کہ پہلے تولی، پھر صفائی کی، پھر جب وزن کیا تو جو رقم اس نے ایک کلو کی بتائی  تھی  570، اُس سے 100کم ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ دکان دار نے 100روپے زیادہ لیے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

ہمارے ہاں مرغی کی خریداری کے دو طریقے رائج ہیں:

1. زندہ مرغی کی خرید و فروخت۔

2. مرغی کے گوشت کی خرید و فروخت ۔

ان دونوں طریقوں میں سے ہر ایک طریقے میں مرغی کی قیمت مختلف ہوتی ہے، پہلی صورت میں قیمت کچھ کم ہوتی ہے، جب کہ دوسری صورت میں قیمت کچھ زیادہ ہوتی ہے؛ اس لیے کہ  پہلی صورت میں گوشت کے علاوہ زائد اشیاء زیادہ مقدار میں نکلتی ہیں  اور دوسری صورت میں زائد اشیاء کی مقدار کم ہوتی ہے۔

بہرحال! دونوں ہی صورتوں میں گاہک کے گوشت وصول کرنے سے پہلے زائد اشیاء نکالی جاتی ہیں، جس کے بعد گوشت کی مقدار کم ہوتی ہے، لیکن ایسی خرید و فروخت کا چوں کہ رواج ہو گیا ہے اور اس پر کوئی شخص اعتراض بھی نہیں کرتا؛ اس لیے یہ معاملہ شرعاً درست ہوتا ہے اور مرغی فروش کی کمائی حلال ہوتی ہے۔

درر الحکام میں ہے:

"العادة محكمة.

"يعني أن العادة عامة كانت أو خاصة تجعل حكما لإثبات حكم شرعي. هذه المادة هي نفس القاعدة المذكورة في كتاب الأشباه وكتاب المجامع، ومعنى محكمة أي هي المرجع عند النزاع؛ لأنها دليل يبنى عليه الحكم، وهي مأخوذة من الحديث الشريف القائل «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن» تعريف العادة: هي الأمر الذي يتقرر بالنفوس ويكون مقبولا عند ذوي الطباع السليمة بتكراره المرة بعد المرة، على أن لفظة العادة يفهم منها تكرر الشيء ومعاودته بخلاف الأمر الجاري صدقة مرة أو مرتين، ولم يعتده الناس، فلا يعد عادة ولا يبنى عليه حكم. والعرف بمعنى العادة أيضا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادہ 36، جلد:1، صفحہ: 44، طبع: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں