بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مرغی کی قربانی کا حکم


سوال

مرغی کی قربانی کرنے  کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جن جانوروں کی قربانی ہوسکتی ہے وہ یہ ہیں:  بکری، بکرا، بھیڑ، دُنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اُونٹنی، اُونٹ؛  صرف ان جانوروں کی قربانی کرنا  جائز ہے، اس کے علاوہ دیگر جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے؛ لہذا مرغی اگرچہ حلال ہے، لیکن اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔

الہدایۃ میں ہے:

"قال: (والأضحية ‌من ‌الإبل ‌والبقر ‌والغنم) لأنها عرفت شرعا ولم تنقل التضحية بغيرها من النبي عليه الصلاة والسلام ولا من الصحابة رضي الله عنهم."

(كتاب الأضحية، ٤/ ٣٥٩، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"‌أما ‌جنسه: فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه، والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك."

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ٥/ ٢٩٧، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) صح (الثني) فصاعدا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة) والمعز.

قال عليه في الرد: (قوله والجاموس) نوع من البقر، وكذا المعز نوع من الغنم بدليل ضمها في الزكاة بدائع."

(‌‌كتاب الأضحية، ٦/ ٣٢٢، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں