بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مردہ کو غسل دینے والے کے کپڑوں کا حکم


سوال

مردہ کو غسل دینے والے کے کپڑے پاک رہتے ہیں یا بدلنا ضروری ہوتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ میت کو غسل دینے والے کے کپڑے صرف میت  کوغسل دینےکی وجہ سے ناپاک نہیں ہوتے ہیں،اس وجہ سے کپڑے تبدیل کرناضروری نہیں ہے،البتہ  اگر  غسل کے دوران  کپڑوں پرکوئی نجاست لگ جائے،تو تب کپڑوں کے اس ناپاک حصے کو پاک کرنا ضروری ہے ہوگا، یا کپڑے تبدیل کرلیے جائیں۔  اور غسل کے دوران جو پانی میت کے جسم سے  لگتا ہے وہ بھی راجح قول کے مطابق ناپاک ہے۔ تاہم جیساکہ میت کو غسل دینے والے پر غسل کرنا مستحب ہے،اسی طرح  بہتر یہ ہےکہ غسل  کے ساتھ ساتھ  کپڑے  بھی تبدیل  کر لیے جائیں۔

بذل المجہود میں ہے:

"(حدثنا أحمد بن صالح، نا ابن أبي فديك، حدثني ابن أبي ذئب، عن القاسم بن عباس، عن عمرو بن عمير، عن أبي هريرة أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: من غسل الميت فليغتسل، ومن حمله فليتوضأ).

قال الخطابي : قلت: لا أعلم أحدا  من الفقهاء يوجب الاغتسال من غسل الميت، ولا الوضوء من حمله، ويشبه أن يكون الأمر في ذلك على الاستحباب، وقد يحتمل أن يكون المعنى أن غاسل الميت لا يكاد يأمن أن يصيبه نضح من رشاش الغسول ، وربما كان على بدن الميت نجاسة، فإذاأصابه نضحه، وهو لا يعلم مكانه كان عليه غسل جميع البدن؛ ليكون الماء قد أتى على الموضع الذي أصابه النجس من بدنه."

(أول كتاب الجنائز، ٤٣٩/١٠، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فتح القدیر میں ہے:

"ويندب الغسل من غسل الميت."

(كتاب الصلاة، باب الجنائز، ١١٢/٢، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504101851

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں