بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مروجہ تبلیغ کا حکم اور اس کے طریقہ کار کا ثبوت


سوال

مروجہ تبلیغ کاحکم اور سہ روزہ، شبِ جمعہ، چلہ کا حکم مع حوالہ بیان فرمائیں!

جواب

واضح رہے بقدرِ ضرورت دین سیکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، چاہے وہ تبلیغ کے شعبہ کے ذریعہ ہو یا مدرسہ و خانقاہ یا دین کے دوسرے شعبہ کے ذریعہ ہو، اگر کسی شخص کو دین سیکھنے کا موقع صرف شعبہ تبلیغ کے ذریعہ حاصل ہو، اور کوئی ذریعہ اس کے لیے حصول علم کا نہ ہو، جیسا کہ اس وقت امت کے بہت بڑے طبقہ کا ایسا ہی حال ہے تو ان کے لیے شعبہ تبلیغ کے ذریعہ دین سیکھنا فرض ہے۔

باقی رہا مروجہ طریقہ تبلیغ کا حکم تو چوں کہدعوت الی الخیر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر مطلقاً اس امت کا طرہِ امتیاز ہے، جیسے کہ قرآنِ مجید میں ہے:

"تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔"

(سورۃ آل عمران، رقم الآیۃ:110، ترجمہ:بیان القرآن)

اور اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لیے زمانہ کے حالات اور تقاضوں کو مد نظر رکھ کر دعوت الی الخیر کی مروجہ جو ترتیب بزرگوں کی طرف سے بنائی گئی ہے  وہ بھی اسی عمومی حکم میں داخل ہے، اس کے لیے باقاعدہ انہیں تفصیلات کے ساتھ خیر القرون سے ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ نفسِ تعلیمِ دین ضروری ہے، لیکن آج کل جس انداز میں مدارس قائم کرکے نصاب کی تعیین کی گئی ہے اور آٹھ سالہ درسِ نظامی کا کورس مقرر کیا گیا ہے، وہ بھی ان قیودات کے ساتھ خیر القرون سے ثابت نہیں، لیکن تجربہ سے مفید ثابت ہوا ہے اور اس کے ذریعہ سے سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں نے علمِ دین میں مہارت حاصل کی ہے، بعینہٖ یہی حال جماعت دعوت وتبلیغ کے مقرر کردہ مروجہ نظام کا بھی ہے کہ امت میں دینی بیداری، دین کے لیے ایثار و قربانی اور بے طلب لوگوں کے اندر دین کی طلب و فکرِ آخرت پیدا کرنے کی غرض سے متعین ایام کے لیے نقل وحرکت (یعنی شبِ جمعہ، سہ روزہ، چلّہ، چار ماہ، ایک سال) کا مروجہ نظام بنایا گیا ہے جو یقیناً مذکورہ تفصیلات کے ساتھ اصطلاحاً فرض یا واجب نہیں ہے، لیکن تجربہ سے اس کا فائدہ مند ہونا اظہر من الشمس ہے، جس سے کوئی منصف مزاج شخص انکار نہیں کرسکتا۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ تبلیغی جماعت کے طریقہ کار سے متعلق لکھتے ہیں:

"دین کی دعوت و تبلیغ تو اعلیٰ درجے کی عبادت ہے، اور قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں جابجا اس کی تاکید موجود ہے، دین سیکھنے اور سکھانے کے لیے جماعتِ تبلیغ وقت فارغ کرنے کا جو مطالبہ کرتی ہے، وہ بھی کوئی نئی ایجاد نہیں، بلکہ ہمیشہ سے مسلمان اس کے لیے وقت فارغ کرتے رہے ہیں، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تبلیغی وفود بھیجنا ثابت ہے۔ رہی سہ روزہ، ایک چلہ، تین چلہ اورسات چلہ کی تخصیص، تو یہ خود مقصود نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ مسلمان دین کے لیے وقت فارغ کرنے کے تدریجاً عادی ہوجائیں اوران کورفتہ رفتہ دین سے تعلق اور لگاؤ پیداہوجائے، پس جس طرح دینی مدارس میں نوسالہ، سات سالہ کورس (نصاب) تجویز کیا جاتا ہے، اور آج تک کسی کو اس کے بدعت ہونے کا وسوسہ بھی نہیں، اسی طرح تبلیغی اوقات کو بھی بدعت کہناصحیح نہیں۔"

( آپ کے مسائل اور انکا حل، ج:9،  ص:145، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200215

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں