بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مروجہ حیلہ اسقاط کا حکم


سوال

 ہمارے دیار میں  میت کے لیے   جو  حیلہ اسقاط مروج ہے  اس کے  بارے میں اسلام میں کوئی مثال ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ مذکورہ رسم یعنی   " حیلۂ اسقاط"    بعض حضراتِ  فقہاء  کرام نے ایسے شخص کے لیے تجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نماز یں اور روزے وغیرہ اتفاقی طور پر فوت ہوگئے ہوں، پھر  اسے قضا کرنے کا موقع نہ ملا ہو اور اس نے  موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو  کی ہو ، لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو کہ  جس کے ایک تہائی سے اس کی  تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جاسکے،  اور ورثاء  کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا ء نے مذکورہ  حیلہ اختیار کر نے کی گنجائش ذکر کی ہے،

اور اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  ورثاء  فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب و  نادار مستحقِ زکوۃ  کو  دے  کر اس کو  اس رقم کا اس طرح مالک بنادیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کے بجائے خود استعمال کرلے تو ورثاء کو  کوئی اعتراض نہ ہو  اور وہ مستحق شخص  بھی یہ سمجھتا  ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثاء  کو  واپس نہ کروں تو  انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے، پھر وہ مستحق کسی قسم کے  دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثاء  کو واپس کردے،  اور پھر ورثاء  اسی مستحق کو یا زیادہ بہتر یہ ہے کہ  کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ بھی اپنی خوش دلی سے  انہیں وہ رقم  واپس کردے، اس طرح بار بار  ورثاء  یہ رقم کسی مستحق کو  دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی و مرضی سے واپس کرتا  رہے، یہاں تک کہ مرحو م کی قضا  نمازوں و روزوں کے  فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے تو اس طرح  مرحوم کا تمام فدیہ ادا ہوجائے گا اور اب وہ رقم سب سے آخر میں جس نادار ومستحق شخص کو ملے گی، وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا ، اس پر رقم کی واپسی کے لیے کسی قسم کا دباؤ ڈالنا درست نہیں ، نیز آخر میں ورثاء  کا رقم کو آپس میں تقسیم کرنا  ناجائز ہے ، اسی طرح  کسی مال دار اور غیر مسکین کا اس رقم کو لینا جائز نہیں۔

واضح رہے کہ فقہاءنے  اس حیلہ   کی اجازت    مذکورہ بالا شرائط کے   ساتھ  صرف ایسے شخص کے لیے دی ہے  جس کے ترکہ سے اس کا فدیہ ادا نہ ہو رہا ہو، لیکن آج کل بعض علاقوں میں اسے معمول بنا دیا گیا ہے، اور جو  آداب و شرائط  اس حیلے کے لیے لازمی ہیں ان کی بھی رعایت نہیں رکھی جاتی، لہذا  صورتِ مسئولہ میں  ہمارے دیار میں  جو حیلہ اسقاط رواج پکڑتاجارہاہے اور اسے دین اور شریعت کا حکم سمجھ کر پروان چڑھایاجارہاہے یہ سراسر ناجائز اور شرعی احکامات سے متصادم ہے ، اس قسم  کے حیلے  کی شریعت میں کوئی مثال اور نظیر  موجود نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.

(قوله ولو لم يترك مالا إلخ) أي أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي. زاد في الإمداد: أو لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع إلخ وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي ونص عليه في تبيين المحارم فقال: لا يجب على الولي فعل الدور وإن أوصى به الميت لأنها وصية بالتبرع، والواجب على الميت أن يوصي بما يفي بما عليه إن لم يضق الثلث عنه، فإن أوصى بأقل وأمر بالدور وترك بقية الثلث للورثة أو تبرع به لغيرهم فقد أثم بترك ما وجب عليه. اه."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:73، ط: ايچ ايم سعيد)

چناں چہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:

" الغرض اس حیلہ کی ابتدائی بنیاد ممکن ہے کہ کچھ صحیح اور قواعد شرعیہ کے مطابق ہو، لیکن جس طرح کا رواج اور التزام آج کل چل گیا ہے، وہ بلا شبہ ناجائز اور بہت سے مفاسد پر مشتمل، قابلِ ترک ہے۔"

(حیلۂ اسقاط کی شرعی حیثیت، جواہر الفقہ، ج:1، ص: 560، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں