بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

مروجہ حیلہ اسقاط کی شرعی حیثیت


سوال

حیلہ اسقاط کا کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ  " حیلۂ اسقاط"  بعض فقہاء نے ایسے شخص کے لیے تجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نماز یں اور روزے وغیرہ اتفاقی طور پر فوت ہوگئے ہوں، پھر  اسے قضا کرنے کا موقع نہ ملا ہو اور اس نے  موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو  کی ہو ، لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو کہ  جس کے ایک تہائی سے اس کی  تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جاسکے۔

ایسی صورت میں اگر ورثاء  اصحاب استطاعت ہوں تو  اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں، اور اگر ورثاء  کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا ء نے حیلہ اختیار کر نے کی گنجائش ذکر کی ہے، اور اس کی جائز صورت یہ ہے کہ:  ورثاء  فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب و  نادار مستحق زکوۃ  کو  دے  کر اس کو  اس رقم کا اس طرح مالک بنادیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کے بجائے خود استعمال کرلے تو ورثاء کو  کوئی اعتراض نہ ہو  اور وہ مستحق شخص یہ سمجھتا  ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثاء  کو  واپس نہ کروں تو  انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے، پھر وہ مستحق کسی قسم کے جبر  اور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثاء  کو واپس کردے اور پھر ورثاء  اسی مستحق کو یا کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ بھی اپنی خوش دلی سے  انہیں واپس کردے، اس طرح بار بار  ورثاء  یہ رقم کسی مستحق کو  دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی و مرضی سے واپس کرتا  رہے، یہاں تک کہ مرحو م کی قضا  نمازوں و روزوں کے  فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے تو اس طرح  مرحوم کا تمام فدیہ ادا ہوجائے گا اور اب وہ رقم سب سے آخر میں جس نادار ومستحق شخص کو ملے گی، وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا، نیز آخر میں ورثاء  کا رقم کو آپس میں تقسیم کرنا یا کسی غنی ومال دار اور غیر مسکین کا اس رقم کو لینا جائز نہ ہوگا، اور نہ ہی  اس آخری مستحق شخص پر رقم کی واپسی کے لیے کسی قسم کا دباؤ وغیرہ ڈالنا درست ہوگا۔

آج کل  بعض  علاقوں میں حیلہ  اسقاط کو  معمول بنالیا گیا ہے، حا ل آں کہ  فقہاء نے  صرف غریب میت کے لیےاس کی اجازت دی تھی، اور پھر جن شرائط اور آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اس کی اجازت تھی ان کا بھی قطعاً خیال نہیں رکھا جاتا ہے،  لہذا مروجہ  حیلہ اسقاط  درج ذیل مفاسد  کی وجہ سے  ناجائزہے:

1۔۔  حیلہ اختیار کرتے ہوئے عموماً  جو مال لوگوں  کے درمیان گھمایا جاتا ہے وہ میت کا ترکہ ہوتا ہے ، جس تمام ورثاء کا حق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے   تمام ورثاء  کی اجازت کے بغیر  اس میں  تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا ، بالخصوص جب کہ  ورثاء میں نابالغ بھی  ہوں جن کی اجازت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔اسی طرح سے بالغ ورثاء  کی دلی رضامندی و  طیب نفس (خوش دلی) عام طور پر نہیں ہوتی۔

2۔۔مال کو اس طرح لوگوں کے درمیان گھمانے سے یہ مال اگلے شخص کی ملکیت نہیں بنتا؛ اس لیے کہ اس میں ہر ایک دوسرے سے مال لیتا رہتا ہے اگر کوئی  انکار کردے تو اس پرزبردستی بھی کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے  میت کا  فدیہ بھی ادا نہیں ہوتا۔

3۔۔فدیہ کی ادائیگی کے لیے فدیہ مستحق زکاۃ کو  دینا  شرعاً ضروری ہوتا ہے، جب کہ اس حیلہ میں اس کی کوئی رعایت نہیں کی جاتی، بلکہ اغنیاء بھی حیلہ اختیار کرنے میں شریک ہوتے  ہیں۔

4۔۔اس حیلہ میں آخری شخص کی ملکیت میں مال آجاتا ہے، اس  کی مرضی کے بغیر اس سے لے کر آگے دوسروں  کو دیاجاتا ہے جو کہ جائز نہیں۔

5۔۔نیز اس حیلہ کو لازم سمجھ کر کرنا خود ایک بدعت ہے؛ لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

"عن سعد بن إبراهيم سمع القاسم قال: سمعت عائشة  تقول: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من عمل عملاً لیس علیه أمرنا فهو رد". (مسند احمد بن حنبل ۶/۱۸۰، رقم : ۲۵۹۸۶، ۶/۲۵۶، رقم:۲۶۷۲۱)

"وبه ظهر حال وصایا أهل زماننا ، فإن الواحد منکم یکون في ذمته صلوات کثیرة وغیرها من زکاة وأضاح وأیمان، ویوصي لذلك بدراهم یسیرة، ویجعل معظم وصیته لقراءة  الختمات والتها لیل التي نص علماؤنا علی عدم صحة الوصیة بها". (الشامية، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصیة بالنخمات والتهالیل، زکریا ۲/۵۳۴)

"قال الطيبي: وفيه أن من أصرّ على أمر مندوب، وجعله عزماً، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصرّ على بدعة أو منكر؟". (مرقاة 3/31،  کتاب الصلاة،  الفصل الأول، ط: رشیدیة) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202897

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں