بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1443ھ 24 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا قعدہ اولی میں درود شریف پڑھنا


سوال

مقتدی قعدہ اولی میں قصدًا ا لتحیات کےبعد درودپڑھتاہے، اس کی نمازکاکیاحکم  ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  مقتدی کو  (فرض اور وترکے) قعدہ اولی میں التحیات  پر ہی اکتفا کرنا چاہیے،  اس کے بعد درود شریف پڑھنے کی عادت نہیں بنانی  چاہیے، البتہ  سہوًا یا قصدًا درود شریف پڑھنے کی وجہ سے نہ اس کی نماز فاسد ہوگی، اور نہ ہی سجدہ سہو لازم ہوگا، البتہ  اگر منفرد  یا امام ایسا کرے تو سجدۂ  سہو لازم ہوجائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"سهو الإمام يوجب عليه و على من خلفه السجود، كذا في المحيط ... سهو المؤتم لايوجب السجدة."

(كتاب الصلاة،  الباب الثاني عشر في سجود السهو، فصل سهو الإمام يوجب عليه وعلى من خلفه السجود، ١ / ١٢٨، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و لايجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي."

(كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ١ / ١٢٦، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضا:

"و كذا لو زاد على التشهد الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في التبيين. وعليه الفتوى، كذا في المضمرات. و اختلفوا في قدر الزيادة فقال بعضهم: يجب عليه سجود السهو بقوله: "اللهم صل على محمد"، و قال بعضهم: لايجب عليه حتى يقول: "و على آل محمد"، و الأول أصح، و لو كرره في القعدة الثانية فلا سهو عليه، كذا في التبيين."

( كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ١ / ١٢٧، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں