بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا عید کی نماز میں تکبیر زوائد بھول جانا


سوال

اگر مقتدی عیدین کی نماز میں واجب تکبیر نہ کہہ سکا تو کیا حکم ہے؟

جواب

عیدین کی نماز میں چھ تکبیرات زوائد واجب ہیں، پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور ثناء کے بعد تین تکبیریں ہیں، اور دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے تین تکبیریں ہیں،  اگر مقتدی نے بھول سے ان تکبیرات کو ادا نہیں کیا تو اس کی نماز میں واجب کی کمی رہ گئی، لیکن امام کی اتباع میں ہونے کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو لازم نہیں آئے گا، اور اس کی عید کی نماز ادا ہوجائے گی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (4/ 446):
"العاشر: تكبيرات العيدين. قال في البدائع: إذا تركها أو نقص منها أو زاد عليها أو أتى بها في غير موضعها فإنه يجب عليه السجود".

الجوہرۃ النیرۃ  (1/304)  :

( قوله : وإن سها المؤتم لم يلزم الإمام ولا المؤتم السجود ) لأنه إذا سجد وحده كان مخالفا لإمامه وإن تابعه الإمام ينقلب الأصل تبعا ."  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200342

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں