بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کے لیے قراءت کاحکم اور حرمین شریفین میں عورتوں کی نمازباجماعت کامسئلہ


سوال

السلام علیکم ورحمه الله وبرکاتهبعد سلام مسنون مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ سری اور جہری نمازوں میں مقتدی کی قرآت کا کیا حکم ہے؟اور حرم شریف میں عورتوں کی اقتدا کی نیت کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے کہ آیا عورت اپنی نماز اکیلے پڑھے یا جماعت کے ساتھ پڑھے؟ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو والسلام ام احمد

جواب

سری اورجہری دونوں نمازوں میں مقتدی کے لیے حکم یہ ہے کہ قراءت کے وقت وہ خاموش رہے امام کی قراءت اس کی بھی قراءت ہے۔ حرمین شریفین میں عورت حرم میں ہو تو باجماعت نماز پڑھے مگر عورتوں کے لیے مخصوص جگہوں میں پڑھے ، ایسا کرنا انتظامی اور دینی دونوں لحاظ سے بہتر ہے . نیت کا ذکر کرکے سائلہ کامقصد شاید محاذات کے مسئلے کے متعلق سوال کرناہے، مگر اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں،اگر لازمی طور پرآگاہی چاہیے تو دوبارہ سوال کرکے معلوم کرلیاجائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143503200014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں