بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کو تکبیرات کب کہنی چاہییں؟


سوال

بعض اوقات امام کی آواز دورانِ نماز ہلکی ہو جاتی ہے، مثلاً بجلی چلی جانے کی وجہ سے،اب مقتدی تکبیرات کب کہے، امام کی تکبیر مکمل ہوجانے کے بعد یا ساتھ ساتھ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مقتدی امام کےتکبیرشروع کرنے کے بعد اپنی تکبیر شروع کردےاورامام کے ابتداء کرنے کے بعد ہی ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہواوراسی طریقےپرامام  کا سلام شروع کرنے کے بعد  اپناسلام شروع کردے۔ نیز  مقتدی کو چاہیے کہ  وہ ان سب اعمال اور تکبیر وغیرہ کہنے میں امام سے سبقت نہ کرے، اگر امام تکبیر اور تسمیع  (سمع الله لمن حمدہ کہنے) کو زیادہ طول دے دے جس کی وجہ سے مقتدی کی تکبیر امام کی  تکبیر کے بعد شروع ہونے کے باوجود امام کی تکبیر سے پہلے ختم ہوجائے تو اس صورت میں  اگرچہ امام اور مقتدی کی نماز پر  کوئی فرق تو نہیں پڑے گا،لیکن امام کااعتدال سے زیادہ تکبیرات کو طول دینا  سنت کے خلاف ہے،اور اگر بجلی چلی جانے کی وجہ سے امام  کی تکبیر کا پتہ نہیں چلا تو علم ہوتے ہی مقتدی وغیرہ خود کہہ لیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: « كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا يقول: ‌لا ‌تبادروا الإمام، إذا كبر فكبروا. وإذا قال: {ولا الضالين} فقولوا: آمين. وإذا ركع فاركعوا. وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد »."

(كتاب الصلاة،‌‌باب النهي عن مبادرة الإمام بالتكبير وغيره،20/2، ط: دار الطباعة العامرة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ثم يكبر) أتى بثم للإشعار بالاطمئنان فإنه سنة أو واجب على ما اختاره الكمال، (قوله: مع الخرور) بأن يكون ابتداء التكبير عند ابتداء الخرور وانتهاؤه عند انتهائه شرح المنية."

(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها،1 / 497، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ويركع حين يفرغ من القراءة وهو منتصب) هو المذهب الصحيح، كذا في الخلاصة في الجامع الصغير، ويكبر مع الانحطاط، كذا في الهداية، قال الطحاوي: وهو الصحيح، كذا في معراج الدراية، فيكون ابتداء تكبيره عند أول الخرور والفراغ عند الاستواء للركوع."

(كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها، 74/1، ط: رشیدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502101263

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں