بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

مقیم کے لیے موزوں پر مسح کی مدت


سوال

اگر ظہر کے وقت وضو کیا موزے پہن لیے اب عشا کی نماز بھی اسی وضو سے پڑھی اس کے بعد رات کو وضو ٹوٹ گیا لیکن اس نے وضو نہیں کیا وہ سو گیا اور فجر کی نماز کے لیے وضو کیا اس فجر کی نماز کے لیے اس کا پہلا مسح ہوا اب اس فجر کی نماز سے لے کر دوسرے دن فجر کی نماز کا مسح بھی کر سکتا ہے؟ یعنی اس کی دو راتیں موزے پہن کر گزر گئی ہیں رہنمائی فرمائیں

جواب

موزوں پر مسح کی مدت مقیم آدمی کے لیےایک دن اور ایک رات ہے، اور اس کا اعتبار وقت حدث سے ہے، یعنی: جس وقت حدث لاحق ہوا ہے اس وقت سے لے کر ایک دن اور  رات پورا ہونے پر مسح کی مدت مقیم کے لیے  مکمل ہو جائے گی، اس کے بعد وضو کے وقت موزوں کو اتار کر پاؤں دھونا ضروی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں رات کو جس وقت حدث لاحق ہوا  (وضو ٹوٹا) ہے، اس وقت سے سے کر دوسرے دن اس وقت تک مدت پوری ہو جائے گی، اس کے بعد مسح کرنا جائز نہیں بلکہ پاؤں کا دھونا لازم ہے، بغیر پاؤں دھوئے  مسح کر کے نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

أخبرنا الثوري، عن عمرو بن قيس الملائي، عن الحكم بن عتيبة، عن القاسم بن مخيمرة، عن شريح بن هانئ، قال: أتيت عائشة أسألها عن المسح على الخفين، فقالت: عليك بابن أبي طالب، فسله فإنه كان يسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألناه فقال: «جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم» قال: وكان سفيان، إذا ذكر عمرا، أثنى عليه.

(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب التوقيت في المسح على الخفين، ج: 1، صفحہ: 204، رقم الحدیث: 276، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

(ومنها) أن يكون في المدة وهي للمقيم يوم وليلة وللمسافر ثلاثة أيام ولياليها. هكذا في المحيط سواء كان السفر سفر طاعة أو معصية. كذا في السراجية وابتداء المدة يعتبر من وقت الحدث بعد اللبس حتى إن توضأ في وقت الفجر ولبس الخفين ثم أحدث وقت العصر فتوضأ ومسح على الخفين فمدة المسح باقية إلى الساعة التي أحدث فيها من الغد إن كان مقيما. هكذا في المحيط ومن اليوم الرابع إن كان مسافرا. هكذا في محيط السرخسي.

(کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح على الخفين، الفصل الأول في الأمور التي لا بد منها في جواز المسح، ج: 1، صفحہ: 33، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144205201264

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں