بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مقرر وقت سے پہلے پیسے ادا کرکے کل قیمت کم کرانا


سوال

میں نے ایک چیز  بیچی ہے 5500روپے میں ایک سال کے ادھار پر، کچھ دن بعد اس بندے نے آکر کہا 5000 ابھی لیے لو 500 روپے کم کرو،  کیا میں کم کرکے روپے لے سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس قیمت پر آپ کا سودا ہوا ہے، آپ اسی کے حق دار ہیں،  مقررہ میعاد سے پہلے قیمت کی ادائیگی کی وجہ سے اس میں کمی کرنا جائز نہیں ہے۔

المبسوط للسرخسي (21 / 31):
"ولو كان له عليه ألف إلى أجل فصالحه منها على خمسمائة درهم ودفعها إليه لم يجز؛ لأن المطلوب أسقط حقه في الأجل في الخمسمائة والطالب بمقابلته أسقط عنه خمسمائة فهو مبادلة الأجل بالدراهم وذلك لايجوز عندنا، وهو قول ابن عمر - رضي الله عنهما -، فإن رجلا سأله عن ذلك فنهاه، ثم سأله، ثم نهاه، ثم سأله فقال: إن هذا يريد أن أطعمه الربا، وهو قول الشعبي - رحمه الله -: وكان إبراهيم النخعي - رحمه الله -: يجوز ذلك، وهو قول زيد بن ثابت - رضي الله عنه - استدلالاً بحديث «بني النضير أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أجلاهم، قالوا: إن لنا ديونًا على الناس، فقال: صلوات الله عليه ضعوا وتعجلوا»، وكنا نحمل ذلك على أنه كان قبل نزول حرمة الربا، ثم انتسخ بنزول حكم الربا، فإن مبادلة الأجل بالمال ربًا". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200852

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے