بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مقدس اوراق کا حکم کیا ہے؟


سوال

مقدس اوراق کا حکم کیا ہے؟

جواب

مقدس اوراق سے متعلق حکم یہ ہے کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر گڑھا کھود کر ایسی جگہ دفن کیا جائے جو قدموں سے روندی نہ جاتی ہو  یا انہیں کسی تھیلے وغیرہ میں ڈال کر ان کے ساتھ وزن باندھ کر سمندر یا دریا برد کردیا جائے یا کسی ویران جگہ ڈال دیا جائے۔

اگر مذکورہ صورتوں میں سے کوئی ممکن نہ ہو تو آخری درجہ یہ ہے کہ ایسے اوراق سے قرآنی آیات اور کلمہ طیبہ اور مقدس کلمات کو مٹاکر، کاغذ کو آگ میں جلاکر خاکستر کردیا جائے اور راکھ کو پانی میں ملا کر کسی پاک جگہ مثلاً  کیاری وغیرہ یا ایسی جگہ جہاں پاؤں نہ پڑتے ہوں بہادیا جائے،  لیکن چوں کہ قرآنی آیات والے اوراق کو جلانے میں شدید فتنے کا خطرہ  اور ایک گونہ بے ادبی ہے؛ لہذا جلانے سے اجتناب کیا جائے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار(6 / 422):

الكتب التي لاينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي، ولا بأس بأن تلقى في ماء جار، كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء.

حاشية رد المحتار على الدر المختار (6 / 422):

 لكن عبارة المجتبى: والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت معنى الانتفاع بها اهـ يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم؛ لأن أفضل الناس يدفنون. 
 وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقاً وتعذر القراءة منه لايحرق بالنار، إليه أشار محمد، وبه نأخذ. ولايكره دفنه. وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف، وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لاتصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيماً لكلام الله عز وجل.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201200885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں