بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

حیات النبی کا منکر اہل سنت والجماعت سے خارج ہے


سوال

محترم مفتی صاحب السلام علیکم ہمارے پاکستان میں ایک گروہ پایا جاتا ہے جو اپنے آپ کو مماتی دیوبندی کہتے ہیں ۔۔ اور اپنا تعلق ایک جماعت اشاعت توحید و السنہ سے جوڑتے ہیں ۔۔ لیکن وہ حیات النبی کے عقیدے کے منکر ہیں ، وہ لوگ اعادہ روح کو بھی نہیں مانتے ۔۔۔ اور سماع موتہ کو بھی نہیں مانتے بلکہ سماع کا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک کہتے ہیں ۔۔۔ اور سماع موتہ کے عقیدہ کو شرک کی جڑ کہتے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ وسیلہ کے بھی منکر ہیں ۔۔ اور بات کرتے وقت ایسا محسوس ہو رتا ہے کہ کسی دیوبندی کی بجاے کسی متشدد غیر مقلد سے بات کی جا رہی ہے ۔۔۔ میرے پاس ایک دوست کے زریعے انکے ایک عالم مولانا یونس نعمانی کی ریکارڈنگ پہنچی ہے جس میں وہ مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب رحمت اللہ علیہ اور مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمت اللہ کا نام لے کر انکو کافر مشرک وغیرہ پتا نہیں کیا کیا کہتے ہیں اور بیان کرتے ہوے کہتے ہیں کہ اب بتاو اس مولوی کی بات مانو گے یا قرآن کی یعنی مولانا یوسف لدھیناوی رحمت اللہ اور مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب رحمت اللہ کی باتیں قرآن کے خلاف ہیں ۔۔۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ مولانا یوسف رحمت اللہ اور مولونا سرفراز خاں صفدر رحمت اللہ کا عقیدہ وہ ہی ہے جو المہند میں ہے۔۔۔ میں نے انکے ایک اور عالم مولانا عبد القدوس صاحب کی ویڈیو دیکھی ہے جس میں وہ پاکستان کے بڑے عالم اور مناظر مولانا امین صفدر اوکاڑوی رحمت اللہ علیہ جنکے کتاب تجلیات صفدر کو بڑے بڑے علما فائدہ اٹھاتے ہیں غیر مقلدوں کا رد کرنے میں انکو بڑے توہین آمیز انداز میں ماسٹر اوکاڑوی کہا حضرت کو غیر مقلد بھی اسی طرح بلاتے ہیں پاکستان میں ۔۔۔ یہ لوگ علما کی کتابوں میں اکثر دھوکے کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طریقہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام علما دیوبند سماع موتہ کو نہیں مانتے تھے ۔۔۔ یہ لوگ مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب جنکا نام آپ کے دارلافتا سے شایع ہونے والے فتاوٰی میں ہوتا ہے کہ مزید تفصیل کے لیے انکی فلاں کتاب کی طرف رجوع فرمائیں پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب سماع موتا کی طبع اول صفحہ 382 میں امی عایشہ کی شان میں گستاخی کی ہے اور وہ گستاخ رسول ہے ۔۔۔۔ میرا سوال انکے بارے میں یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو دیوبندی کہنا جائز ہے موجودہ دور میں دارالعلوم دیوبند کا حیات النبی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے منکر حیات النبی اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک کہنے والوں کے بارے میں دارلعلوم کے مفتیان کرام کی کیا راے ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ سماع موتہ کا عقیدہ شرک اور شرک کی جڑ ہے ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے کیا مولانا سرفراز خاں صفدر صاحب نے اپنی کتاب میں امی عایشہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی ہے گستاخ علما دیوبند کے بارے میں دارلعلوم کیا کہتا ہے مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا سرفراز خاں صفدر اور مولانا امین صفدر اوکاڑوی وغیرہ کے بارے میں دارلعلوم کی رائے کیا ہے یہ لوگ بڑے زور شور سے اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں اور کم علم لوگوں کو گمراہ کہتے ہیں ۔۔۔ میں نے اکثر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اسی عقیدہ کے مماتی تھے اور بعد میں غیر مقلد بن گئے امید کرتا ہوں مجھے تفصلا جواب سے نوازیں گے ۔

جواب

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہل السنہ والجماعہ کا اجماعی عقیدہ جو چودہ صدیوں سے امت میں متوارث ہے، جسے علماء دیوبند رحمہم اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے، ترجمانِ دار العلوم دیوبند و سابق مہتمم دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ میں ۔ وہ یہ ہے: مسئلہ زیرِ بحث حیات النبیﷺ میں جہاں تک اپنے بزرگوں کی کتابوں، فتاویٰ ،مقالات اور متوارث ذوق کا تعلق ہے، دیوبندیت تو یہی ہے کہ برزخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حیاتِ دنیوی کے ساتھ زندہ مانا جائے۔ خیر الفتاویٰ:1187 لہٰذا منکر حیات النبی قطع نظر اس کے وہ کسی جماعت سے نسبت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اہل السنہ والجماعہ سے خارج ، مبتدع اور اہل ہویٰ میں سے ہے، دیوبندیت سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ، ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ باقی علماء دیوبند کو برا بھلا کہنا۔ یہاں تک کہ کافر بتلانا ،انتہائی خطرہ کی بات ہے، ایک عام مسلمان کو کافر سمجھنا یا کافر کہنا باعثِ سلب ایمان ہے چہ جائے کہ ان برگزیدہ ہستیوں اور اولیاء اللہ کے حق میں اس طرح کی گستاخی کا ارتکاب کیا جائے، مذکورہ صاحب کو اپنے ایمان کی خبر لینی چائیہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ اور حضر ت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ اور حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور برگزیدہ بندے تھے ،اور حقیقت میں مسلک دیوبند کے ترجمان تھے، ان اکابر کی عبارات کو توڑ مروڑ کر اس سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی جیسے امور ثابت کرنا، ان پاکیزہ ہستیوں پر بہتان ہے، الحمد للہ ہمارے بزرگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ادب و احترام میں ان پر الزام تراشی کرنے والوں سے بہت آگے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں