بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منہ بھر کر قے کا مصداق


سوال

منہ بھر قے کرنےکامصداق کیا ہے؟

جواب

منہ بھر کر قے سے مراد یہ ہے کہ قے اتنی مقدار میں ہو کہ جس کو روکنا مشکل  ہو، بعض فقہاء کرام نے یہ تعریف کی ہے کہ : جس کو روکنا ممکن نہ ہو، البتہ پہلا قول زیادہ  راجح ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 137):

"(وَ) يَنْقُضُهُ (قَيْءٌ مَلَأَ فَاهُ) بِأَنْ يُضْبَطَ بِتَكَلُّفٍ. 

قَوْلُهُ: بِأَنْ يَضْبِطَ) أَيْ يُمْسِكَ بِتَكَلُّفٍ، وَ هَذَا مَا مَشَى عَلَيْهِ فِي الْهِدَايَةِ وَ الِاخْتِيَارِ وَ الْكَافِي وَ الْخُلَاصَةِ، وَ صَحَّحَهُ فَخْرُ الْإِسْلَامِ وَ قَاضِي خَانْ، وَ قِيلَ: مَا لَايَقْدِرُ عَلَى إمْسَاكِهِ. قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: وَ عَلَيْهِ اعْتَمَدَ الشَّيْخُ أَبُو مَنْصُورٍ، وَ هُوَ الصَّحِيحُ. وَفِي الْحِلْيَةِ: الْأَوَّلُ: الْأَشْبَهُ."

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144212201660

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں