بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

منزہ فاطمہ نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

 منزہ فاطمہ نام رکھنا کیسا ہے؟ یہ نام رکھا ہے لیکن بچی بہت روتی ہے بیمار رہتی ہے کیا کیا جائے؟

جواب

منزہ‘‘(میم پر پیش ،نون پر زبر ،زاء پر تشدید اور زبر ،آخر میں ہاء )   اس کے معنی ہیں ــ:’’عیبوں سے پاک اور فاطمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا نام ہے  لہذا منزہ فاطمہ نام رکھنا درست ہے ۔باقی بیماری اللہ تعالی کی طرف سے ہے اس کا نام سے کوئی تعلق نہیں وہ ہر نام والے کو لگ سکتی ہے ۔ نیزکسی  اچھے طبیب کو دکھاکر علاج کروانے کے ساتھ ساتھ  سورۂ فاتحہ اور سورۂ تکویر (اذ الشمس کورت، پارہ عم) تین تین مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے یہی پانی بچی کو پلاتے رہیے۔

نیز آیاتِ شفا پڑھ کر بچی پر پابندی سے دم کیجیے، اور اسے جو بھی خوراک (کھانا پینا) دیں اس پر یہ آیات پڑھ کردم کرکے دیجیے، آیاتِ شفا درج ذیل ہیں:

1: {وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ} [التوبة: 14:9]
2: {وَشِفَآءٌ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ}[یونس: 57:10]
3: {يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ‌} [النحل: 69:16]
4: {وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ}  [الإسراء: 82:17]
5: {وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِیْنِ} [الشعراء: 80:86]
6: {قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ} [حٰم السجدة: 41:44]

(اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم" تالیف ڈاکٹر محمد عبدالحی " صاحب رحمۃ اللہ علیہ)

تاج العروس میں ہے:

"(ونزه نفسه عن القبيح تنزيها: نحاها) ؛ ومنه تنزيه الله تعالى: وهو تبعيده وتقديسه عن الأنداد والأشباه وعما لا يجوز عليه من النقائص؛ ومنه الحديث في تفسير سبحان الله: هو تنزيهه أي إبعاده عن السوء وتقديسه."

(جلد ۳۶ ص : ۵۲۷ ط : دار الهدایة)

المغرب فی ترتیب المعرب میں ہے:

"(ن ز هـ) : (نزهه الله) عن السوء تنزيها بعده وقدسه ولا يقال أنزهه وقوله التسبيح (إنزاه الله) سهو ويقال فلان يتنزه عن المطامع الدنية والأقذار أي يباعد نفسه ويتصون (ومنه) الحديث «تنزهوا عن البول» وقوله إذا وقع الشك فالأولى الأخذ بالتنزه يعني الاحتياط والبعد عن الريب والاسم النزهة ومنه قوله (ونزه) عن الطمع أي تنزه وتصون والاستنزاه بمعنى التنزه غير مذكور إلا في الأحاديث في متفق الجوزقي «كان لا يستنزه عن البول» وفي سنن أبي داود وشرح السنة من مكان عن والأول أصح وأما قوله استنزهوا البول فلحن"

(باب النون ص : ۴۶۲ ط : دارالکتاب العربي)

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144311101076

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں