بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

دو بطن کا مناسخہ، مکان ٹیکس سے بچنے کے لیے بیوی کے نام کروانے سے بیوی کا نہیں ہوگا، ایک بیٹے کا ورثاء کی اجاز ترکہ میں تصرف جائز نہیں ہے


سوال

ہمارے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں،پہلی بیوی سے ایک بیٹی تھی، پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی، اور دوسری بیوی یعنی ہمارے والدہ سے دو بیٹے (بڑا بیٹا سائل ہے) اور چار بیٹیاں ہیں،ہماری باپ شریک بہن انڈیا میں ہے اور اس سے ہمارا کوئی رابطہ  نہیں ہے، والد کا انتقال 2016 میں جب کہ والد ہ کا 2020 میں ہوا،اب ورثاء میں ترکہ سے متعلق کچھ اختلافات ہیں، والد صاحب نے ترکہ میں مندرجہ ذیل اشیاء چھوڑی ہیں:

  • ایک مکان ہے جس کی قیمت تقریباً چار کروڑ پچاس لاکھ ہے، جس کو والد صاحب نے ٹیکس سے بچنے کے لیے اور دوسری مجبوریوں کی وجہ سے والدہ کے نام کر دیا تھا اور انتقال سے پہلے والد صاحب نے چاہا کہ اس کو اپنی زندگی میں فروخت کر کے سب کو اپنا حصہ دے دیں لیکن ان کا اچانک انتقال ہو گیا،  والد کے انتقال کے بعد چھوٹے بھائی نے والدہ کو بہلا پھسلا کر سچ جھوٹ  بول کر مکان اپنے نام گفٹ کروالیاپھر والدہ کے انتقال کے بعد سارے بہن بھائی وراثت کی تقسیم کرنے کے لیے جمع ہوئے تو چھوٹے بھائی نے کہا کہ مکان والدہ نے مکان مجھے گفٹ کر دیا ہے،بھائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مکان پر 40 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں والد کی زندگی میں اور بعد میں بھی، مزید تعمیر نہیں کی، صرف مرمت کاکام رنگ وغیرہ اور سولر سسٹم لگوایا ہے۔
  • مکان میں موجود گھریلو سامان فرنیچر الیکٹرانک آلات وغیرہ۔
  • والد صاحب کے نام پر ایک گاڑی تھی ان کے انتقال کے فوراً بعد کسی کو کچھ بتائے بغیر فروخت کر دی گئی بعد میں مزید کچھ پیسے ملا کر بھائی نے دوسری گاڑی خرید لی۔
  • ایک فلیٹ ہے جس کی مالیت ایک کروڑ دس لاکھ ہےاس فلیٹ کا کرایہ آتا ہےاور یہ والد صاھب کے نام پر ہے۔
  • میرے مشورہ پر ایک دکان بک کروائی تھی جس کی قسط ہم 40ہزار روپے بھرتے تھے  جس میں سے میرے اور بھائی کی تنخواہ سے  ساڑھےسات ہزار روپے ادا ہوتے تھے، یہ پندرہ ہزار ہوئے اور باقی پچیس ہزار روپے فلیٹ کے کرایہ سے ادا ہوتے تھے،یہ دکان والد صاحب نے اپنی زندگی میں 60 لاکھ میں فروخت کر دی تھی اس کی کچھ رقم بہن کی شادی میں خرچ کی اور بقایا تقریباً40 لاکھ کی رقم والد اور والدہ کے مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع رہی تاوقتیکہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا اس کے فوراً بعد یہ رقم بھائی اور والدہ کے جوائنٹ اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی  بعد میں جب اس میں وراثت کا مطالبہ کیا تو بھائی نے جواب دیا کہ یہ دکان وراثت میں نہیں یہ تو ہمارے پیسوں سے لی گئی ہے۔

2016 میں  والد صاحب کے انتقال سے  چھ ماہ قبل گھریلو جھگڑوں اور ناچاقیوں سے بچنے کے لیے مجھے گھر چھوڑنا پڑا اور میں کرایہ کے گھر میں شفٹ ہو گیا،اس سے قبل 2006 میں میرا اور بھائی کا ،مشترکہ کاروبار تھا ہم دونوں نے یہ کاروبار مشترکہ طور پر 4 سال چلایا بعد ازاں بھائی کے کہنے پر کہ یہ میرا کاروبار ہے جھگڑے سے بچنے کے لیے 2010 میں میں  نے وہ کاروبار چھوڑ دیااور اب تک مجھے اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملا۔

والد کے انتقال کے بعد بھائی نے جھوٹ بول کر بہنوں سے شناختی کارڈ لیے اور بہنوں سے سائن کروائے  جب بہنوں نے بھائی سے پوچھا کہ یہ دستخط کیوں کروائے ہیں تو بھائی نے چھوٹ بولا کہ میں نے کچھ دکانیں فلیٹ اور پلاٹ لیے ہیں ٹیکس سے بچنے کے لیے تمہارے نام سے لے رہا ہوں اور ہر بہن کو کہا کہ یہ صرف تمہارے لیے ہے  کسی اور کو کچھ نہ بتانا۔

دکان کی وہ رقم جو والدہ اور بھائی کے جوائنٹ اکاؤنٹ میں تھی اس کا معلوم نہیں کیا ہوا۔

مذکورہ صورت ِ حال میں کیا کیا چیزیں والد صاحب کا ترکہ شمار ہوں گی؟  کیا ایسا کرنے والا آخرت میں عند اللہ مسئول ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کی میراث تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے کل ترکہ  منقولہ وغیر منقولہ میں سے  مرحوم کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں پھراگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو ترکہ سے اسے ادا کیا جائے اس کے بعد مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کیا جائے اس کے بعد جو مال بچ جائے اس کو   576 حصوں میں تقسیم کر کے 130 حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو ، 65 حصے مرحوم کی دوسری بیوی کی  ہر بیٹی کو اور   56 حصے مرحوم کی پہلی بیوی کی ایک بیٹی کو ملیں گے۔

میت---8/ 72 /   576والد

بیوہبیٹابیٹابیٹی(پہلی بیوی سے)بیٹی بیٹیبیٹیبیٹی
17
9141477777
فوت1121125656565656

میت---8---ما فی الید:9

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
221111
18189999

یعنی قابل تقسیم ترکہ کا 22.5694 فیصد مرحوم کے ہر بیٹے کو، 11.2847 فیصد مرحوم کی دوسری بیوی سے چار بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو اور 9.7222 فیصد مرحوم کی پہلی بیوی کی بیٹی کو ملے گا۔

مرحوم کے ورثاء پر لازم ہے کہ ہندوستان میں موجود اپنی باپ شریک بہن کو تلاش کر کے والد مرحوم کی جائیداد میں سے   اس کا حصہ اس کو پہنچائیں۔

نیز والد مرحوم نے جب ٹیکس سے بچنے اور دیگر مجبوریوں کی وجہ سے مکان والدہ کے نام پر کروایا تو اس سے وہ مکان والدہ کی ملکیت میں نہیں  آیا ، بلکہ بدستور والد ہی کی ملکیت میں رہااور والد کے انتقال کے بعد والد کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے بقدر اس میں شریک ہوئے لہذا والدہ نے اگر وہ مکان چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر بھی دیا تھا تب بھی اس کا  شرعاًکوئی اعتبار نہیں ہےیہ مکان والد مرحوم کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا، البتہ بھائی نےاس مکان پر جو رقم صرف کی ہے اس کے متعلق یہ تفصیل ہے کہ والد صاحب کی زندگی میں والد کی اجازت اور ان کے کہے بغیر مکان پر جو خرچہ کیا وہ بھائی کو واپس نہیں ملے گااور جو رقم   والد صاحب کی اجازت سے اور ان کے کہنے پر خرچ کی تھی اس کے برابر رقم والد کے ترکہ میں سے  بھائی کو ملے گی،اور والد صاحب کے انتقال کے بعد بھائی نے مکان کی مرمت وغیرہ میں جو رقم صرف کی اگر وہ والد مرحوم کے دیگر ورثاء کی اجازت سے صرف کی تھی تو یہ رقم بھائی کو ملے گی،اور اگر دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر رقم خرچ کی تو بھائی کو اس رقم کے مطالبے کا حق نہیں ہے۔

مکان میں موجود  گھریلو سامان فرنیچر، الیکٹرانک آلات وغیرہ اگر والد صاحب نے خود  خریداتھااور ان کی ملکیت  میں تھایعنی خریدنے کے بعد کسی کو تحفہ وغیرہ میں نہیں دیا تھا  تو یہ سب بھی والد کے ترکہ میں شمار ہو کر تمام ورثاء میں تقسیم ہو گا۔

والد مرحوم کی وفات کے بعد ان کی گاڑی میں تمام ورثاء کا حق تھا،اگر بھائی نے ان کی اجازت کے بغیر گاڑی فروخت کی تو بھائی گناہ گار ہوا ، اور اس کے بعد جب بھائی نے اس گاڑی کے پیسوں میں کچھ اپنی رقم ملا کر نئی گاڑی خریدلی تو یہ نئی گاڑی بھائی اور والد مرحوم کے ورثاء کے درمیان مشترک ہو گئی، نئی گاڑی کی قیمت کا جتنا حصہ والد مرحوم کی گاڑی کی قیمت سے دیا گیا اس قدر حصہ میں والد مرحوم کے تمام ورثاء  وراثت میں اپنے شرعی حصوں کے بقدر حق دار ہیں اور جتنا حصہ بھائی نے اپنی ذاتی رقم سے ادا کیا وہ بھائی کا ہے۔

فلیٹ بھی والد مرحوم کا ترکہ ہے اور اس میں تمام ورثاء کا حق ہے۔

دکان کی قسطوں میں سے18.75 فیصد حصہ دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک   ادا کرتا تھا اور باقی  62.5  فیصد حصہ والد مرحوم کے فلیٹ کے کرایہ سے ادا کیا جاتا تھا لہذا یہ دکان اسی تناسب سے تینوں میں مشترک تھی، یعنی دکان کا  18.75 فیصد دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کا تھا اور 62.5  فیصد  والد مرحوم کا تھا،اور پھر جب یہ دکان 6000000 روپے میں فروخت ہوئی تو اس میں 1125000 روپے ہر بھائی کے تھے اور باقی 3750000 روپے والد مرحوم کے تھے لیکن والد نے اپنے حصے میں سے 2000000 روپے نکال کر بیٹی کی شادی میں خرچ کر دیے اس طرح اس رقم میں ان کا حصہ 1750000روپے باقی رہا، لہذا اب 4000000 روپے میں سے 1125000 روپے ہر بھائی کے ہیں اور 1750000 والد مرحوم کا ترکہ ہیں جسے ان کے تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم کرنا لازم ہے۔ 

اگر سائل کے بھائی نے ورثاء کا مال ان کی اجازت کے بغیراستعمال کیا یا اس میں تصرف کیا تو وہ گناہ گار ہوگا۔

باقی سائل کا جو یہ دعوی ہے کہ مشترک کاروبار میں سے اسے حصہ نہیں ملا تو اس مشترک کاروبار کی تفصیل بتا کر اس کا شرعی حکم معلوم کیا جا سکتا ہے۔

مسند احمد میں ہے:

«20695 - حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم ؟ وفي أي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام، قال: " فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه "، ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه، ألا وإن كل دم، ومال ومأثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه إلى يوم القيامة...الخ

(مسند البصريين،‌‌حديث عم أبي حرة الرقاشي،رقم20695،ط:مؤسسة الرسالة)

مجلة الاحكام العدلية  میں ہے:

"(المادة 1060) شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك كالاشتراء والاتهاب وقبول الوصية والتوارث...مثلا: لو اشترى اثنان مالا أو وهبه أحد لهما أو أوصى به وقبلا أو ورث اثنان مالا فيكون ذلك المال مشتركا بينهما ويكونان ذوي نصيب في ذلك المال ومتشاركين فيه ويكون كل منهما شريك الآخر فيه."

(‌‌‌‌‌‌الكتاب العاشر: الشركات،الباب الأول في بيان شركة الملك،الفصل الأول: في بيان تعريف وتقسيم شركة الملك،ص204،ط:نور محمد)

وفیہ ایضاً:   

"(المادة 1075) كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه."

(‌‌ایضاً،الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركةص206)

درر الحكام في شرح مجلة الاحكام  میں ہے:

«المادة (1309) - (إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك بإذن الآخر وصرف من ماله قدرا معروفا فله الرجوع على شريكه بحصته أي أن يأخذ من شريكه مقدار ما أصاب حصته من المصرف)...أن يكون المعمر صرف بإذن وأمر الشريك الآخر من ماله قدرا معروفا وعمر الملك المشترك للشركة أو أنشأه مجددا فيكون قسم من التعميرات الواقعة أو البناء ملكا للشريك الآمر...وللشريك المأمور الذي عمر الرجوع على شريكه بحصته أي بقدر ما أصاب حصته من المصرف بقدر المعروف يعني إذا كان الملك مناصفة فيأخذ منه نصف المصرف وإذا كان مشتركا بوجه آخر فيأخذ المصرف على تلك النسبة...إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا كما سيبين في المادة (1131)

(‌‌الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة،الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى3/ 313،ط:دار عالم الکتب)

الدر المختار مع حاشیہ ابن عابدین میں ہے: 

"(عمّر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها

(قوله: عمر دار زوجته إلخ)على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعًا كما مر اهـ."

(مسائل شتی بعد کتاب الخنثیٰ، 6 /747،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:  

"(وتصح بإيجاب كوهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام... وجعلته لك) لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة.

(و قوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لايكون هبةً."

(‌‌كتاب الهبة5/688،ط:سعید)

وفی الرد:

"«لأن ‌تركه الميت من الأموال ‌صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية»."

(‌‌كتاب الفرائض،6/ 759،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100501

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں