بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ملازمین کا مراعات وصول کرنا


سوال

میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، یہاں ماہانہ تنخواہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ملتا، جب کہ سال کا کم سے کم ایک بونس، سالانہ چھٹیوں کے پیسے، پراویڈنٹ فنڈ وغیرہ حکومت کے قانون کے تحت دینا ضروری ہوتا ہے،ایسی صورت میں کمپنی مالکان گناہ گار نہیں ہوں گے کیا؟ اور ملازم ہونے کی حیثیت سے اپنے حق کے یے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر حکومتی قوانین کے اعتبار سے کمپنی کا اپنے ملازمین کو  سال کا کم سے کم ایک بونس، سالانہ چھٹیوں کے پیسے، پراویڈنٹ فنڈ وغیرہ  دینا لازم ہے تو کمپنی کو اس قانون کی پاس داری کرنا ضروری ہے، کیوں کہ کمپنی انہیں قواعد کے مطابق اپنے ملازمین کا تقرر کرتی ہے،اس صورت میں کمپنی مالکان اگر اپنے ملازمین کو یہ مراعات نہ دیں تو وہ گناہ گار ہوں گے، لیکن اگر ملازمین کی تقرر کے وقت کمپنی والے اس بات کی صراحت کردیں کہ وہ ملازمین کو یہ مراعات نہیں دیں گےتو کمپنی انہیں یہ مراعات دینے کی پابند نہیں ہوگی، کمپنی کے مالکان گناہ گار نہیں ہوں گے۔

المعجم الکبیر میں ہے:

"عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا، وأحل حراما، والصلح جائز بين الناس، إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا»."

( عمرو بن عوف بن ملحة المزني، جلد 17 ص:22 ط: مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101155

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں