بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ملازم کا آدھا کام کرکے پوری مزدوری لینے کا حکم


سوال

 ایک سروے کمپنی ہے جس کی طرف سے سو سوالات متعین ہیں، سروے کرنے والا مخاطب سے دو چار سوال کرکے باقی پورے سو سوال خود ہی پورا کرتا ہے جب کہ کمپنی کے اصل مالک کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس کے ماتحت منیجر کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت ہے، تو کیا ملازم کے لئے ایسا کرنا جائز ہوگا، نیز اس ملازمت کی تنخواہ جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں کمپنی کے ملازم کا  مخاطب سے دوتین سوال کرکے بقیہ باقی پورے سوالات خود ہی پوراکرنا   شرعاً درست نہیں ،کمپنی کی طرف سے جب اس کی اجازت نہیں اور   اس  سے کمپنی کا مقصد حاصل نہیں ہوتاتو ایساکرنا جھوٹ، دھوکہ دہی،فریب کاری ہے ،جس پر یہ ملازم گناہ گارہوگا ، مینیجر کی اجازت کا اعتبار نہیں ۔

باقی جہاں تک تنخواہ کا تعلق ہے تو اگر سروے کرنے والا کمپنی کا مستقل ملازم ہے اور اس کے کام کرنے کے اوقات طے ہیں تو اگر وہ اپنا پورا وقت کمپنی کو دیتا ہے تو تنخواہ حلال ہوگی ، اور اگر یہ ملازم وقت کا پابند نہیں ہے بلکہ کام کا ذمہ دار ہے تو کا م پورا نہ کرنے وجہ سے مکمل اجرت کا حق دار نہیں ہوگا بلکہ اپنے عمل کے بقدر اجرت کا حق دار ہوگا اور اتنی ہی اجرت اس کے لیے حلال ہوگی ۔

فتح القدير    میں ہے :

"أن ‌الأجير ‌الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة ، وإن لم يعلم كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم."

(كتاب الإجارۃ ، باب إجارۃ العبد ج: 9 ص: 140 ط: دار الفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي."

(کتاب الإجارۃ ، الباب الثانی متی تجب الأجرۃ  ج: 4 ص: 413 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں