بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ملازمت میں بینک سے ملنے والی سودی رقم کا حساب کتاب کرنے کا حکم


سوال

 میں سرکاری سکول کا استاذ ہوں، پڑھانے کے ساتھ ساتھ ادارے کے سربراہ نے مجھے دوسری ذمہ داریاں بھی سپرد کی ہیں،  اور مجھ سے آرڈر بک پر دستخط ثبت کروایا ہے جس سے انکار میرے لیے  مسائل پیداکرسکتا ہے، ان ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری فنڈ رجسٹر کا ماہانہ حساب کتاب ہے؛ چوں کہ فنڈ کے پیسے بینک میں پڑے رہتے ہیں اور بینک اس جمع شدہ رقم پر جون اور دسمبر میں سود دیتا ہے اور اس کا حساب کتاب وغیرہ بھی میری ذمہ داریوں کاحصہ ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس ذمہ داری کے ادا کرنے میں مجھے گناہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حدیثِ مبارک میں سود کے کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت بھیجی گئی ہے، اب اگر کوئی شخص کوئی ایسی ملازمت کرتا ہو جس میں باقاعدہ سودی معاملات سے وابستگی ہو اور سود کا حساب کتاب کرنا ہوتا ہو  تو ایسی ملازمت کرنا ناجائز ہو گا اور کمائی بھی حلال نہیں ہو گی، لیکن اگر ملازمت کا تعلق باقاعدہ سودی معاملات سے نہ ہو، بلکہ کسی اور شعبے سے  یا اپنے ادارے کے مالیاتی نظام سے ہو، لیکن اُس  میں جزوی طور پر سود کا حساب کتاب بھی کرنا ہوتا ہو   تو اس ملازمت کو تو  حرام نہیں کہا جائے گا، لیکن  جس قدر کام سود کے حساب کتاب کے لکھنے سے متعلق ہو وہ کام  ناجائز کام میں تعاون کی وجہ سے گناہ ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے:

عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنه: قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء۔ رواہ مسلم."

(مشکاۃ المصابیح ۱:۲۴۴ باب الربا)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206201443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں