بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مکمل نام کے بجائے مختصر نام لینے کا حکم


سوال

کیا کسی کو اس کے پورے نام سے پکارنا چاہیے یا مختصر لینا چاہیے، کیوں کہ اگر کسی کا نام عبداللہ حسين ہے تو کیا اس تو صرف عبداللہ کہہ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سوال میں ذکر کردہ نام عبداللہ حسین جیسے نام طویل ہوتے ہیں، جس کو  عام ماحول میں روزِ مرّہ  مکمل لینا مشکل ہے، لہذا صرف عبداللہ کہنا بھی کافی ہے، تاہم اس حکم کی گنجائش ان ناموں میں ہے جس کو مختصر کرلینے میں معنی کے اعتبار سے یا شرعی حکم کے اعتبار سے کوئی حرج نہ ہورہا ہو، اگر کوئی نام ایسا ہے کہ اس کو مختصر کرلینے سے معنی میں فرق آرہا ہے یا شرعی حکم کے خلاف ہورہا ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے وہ صفاتی نام جن کو عبد کی اضافت کے بغیر اللہ تعالیٰ کے علاوہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے، مثلاً عبدالخالق کو مختصر کرکے خالق کہنا عبدالقادر کو مختصر کرکے قادر کہنا جائز ہی نہیں ہے، لہذا ایسے ناموں کو مختصر کرکے کسی کو اس نام سے پکارنا جائز نہیں ہوگا۔

الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية   میں ہے:

"قال العاقولي في شرح المصابيح: ما نهى الشارع عن التسمية به، منه ما كان النهي لكون ذلك لايليق إلا باللهِ تعالى كملك الأملاك، ومنه ما نهى عن التسمية به لكونه خاصاً برسول الله -صلى الله عليه وسلم- كأبي القاسم لأنه ما يقسم بين العباد ما أعطاهم الله ومنه ما نهى عن التسمية به لغيره تفاؤلاً لصاحبه كحزن. فسماه صلى الله عليه وسلم سهلاً الحديث ومنه ما نهى عن التسمية به لغيره كبرة فغيره -صلى الله عليه وسلم ... واعلم أن التسمية بهذا الاسم حرام وكذا التسمية بأسمائه تعالى المختصة به كالرحمن والرحيم والملك والقدوس وخالق الخلق ونحوها."

(باب النهي عن التسمية بالأسماء المكروهة،6/ 109/113، ط: دار الكتب العلمية) 

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144401100395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں