بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

مختلف قسم کے جنازوں کی نماز کا طریقہ


سوال

 اگر ایک ساتھ بہت سارے جنازے جمع ہو جائیں، چند بالغ مرد و عورت ہوں، اور چند نابالغ بچے اور بچیاں ہوں ،تو نماز جنازہ کس طرح پڑھی جاۓ گی؟

جواب

جب ایک ساتھ مختلف قسم کے جنازے جمع ہوجائیں تو ہر ایک کی علیحدہ طور پر نماز جنازہ پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لیکن اگر سب کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھی جائے تو بھی درست ہے، اور اس صورت میں امام کے سامنے پہلے مردوں کی ،ان کے پیچھے بچوں کی ،ان کے پیچھے عورتوں کی، اور پھر ان کے پیچھے بچیوں کی میت رکھی جائے گی ، اور نمازِ جنازہ میں تیسری تکبیر کے بعد پہلے بالغوں کی اور اس  کے بعد نابالغ بچے اور بچی کی دعا بھی پڑھی جائے گی۔

مصنف عبد الرزاق میں حضرت عکرمہ ؒ سے منقول ہے:

"عن عكرمة مولى ابن عباس رضي اللّٰہ عنهما قال: صلى النبي صلى الله علیه و سلّم على قتلى أحد فصلى علیهم جمیعهم، و قدم إلى القبلة أقرأهم للقرآن، و به نأخذ."

( کتاب الجنائز، باب إذا اجتمعت جنائز الرجال، 3/469 ، سنن ابن ماجة، باب ما جاء في الصلاۃ علی الشهداء ودفنہم 1/109)

الدر مع الرد ( فتاوی شامی) میں ہے:

" و إذا اجتمعت الجنائز فإفراد الصلاۃ علی کل واحدۃ أولیٰ من الجمع، و تقدیم الأفضل أفضل، و إن جمع جاز."

قال العلامة الشامي: "أي بأن صلی علی الکل صلاۃ واحدۃ."

(کتاب الصلوۃ ،باب صلاۃ الجنائز ،2 / 219 ،ط: سعید)

وفیه أیضًا:

" بل یقول بعد دعاء البالغین: اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً ... الخ"

( کتاب الصلاۃ ،باب صلاۃ الجنائز ، 2 / 215 ،ط: سعید )

حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح  میں ہے:

"إذا اجتمعت الجنائز فالإفراد بالصلاۃ لکل منھا أولیٰ … و إن اجتمعن وصلی مرۃً واحدۃ … فیجعل الرجال مما یلی الإمام، ثم الصبیان بعدھم: أي بعد الرجال ثم الخناثی، ثم النساء، ثم المراهقات."

( کتاب الصلاۃ / باب الجنائز، فصل: السلطان أحق بصلاتہ، 592/ 593 )

بدائع الصنائع میں ہے:

"فإذا اجتمعت الجنائز، فالإمام بالخیار إن شاء صلی علیهم دفعةً واحدةً و إن شاء صلی علی کل جنازۃ علی حدۃ … ثم کیف توضع الجنائز إذا اجتمعت؟ فنقول: لایخلو إما إن کانت من جنس واحد أو اختلف الجنس … و أما إذا اختلف الجنس بأن کانوا رجالاً و نساءً، توضع الرجال مما یلي الإمام و النساء خلف الرجال مما یلي القبلة … و لو اجتمع جنازۃ رجل و صبي و خنثی و امرأۃ و صبیة، وضع الرجل مما یلي الإمام والصبي وراء ہ، ثم الخنثی، ثم المرأۃ، ثم الصبیة."

( کتاب الصلاۃ، فصل في بیان ما تصح بہ وما تفسدہ وما یکرہ 56/2، ط:  رشیدیۃ)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں