بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سیاہ خضاب سے متعلق ابو داود کی عمومی ممانعت پر مشتمل روایت سے مجاہد کے مستثني ہونے کی دلیل


سوال

آپ کے  دار الافتاء  سے جاری شدہ فتوی نمبر 143909201604  میں لکھا ہے کہ صرف حالتِ جہاد میں دشمن کو مرعوب رکھنے اور اس کے سامنے جوانی اور طاقت کے اظہار کے لیے کالا خضاب استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں خالص سیاہ خضاب لگانا جائزنہیں ہے۔

برائے کرم اس اجازت کا حوالہ مرحمت فرمائیں، جس میں درج ذیل حدیث میں مذکور سزا سے استثنا ہو:

   "عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد، كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة»''۔ (سنن أبي داود :4/ 87)

''حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماارشادفرماتے ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جوسیاہ خضاب لگائیں گے،جیسے کبوترکاسینہ،ان لوگوں کوجنت کی خوشبوبھی نصیب نہ ہوگی''۔ 

جواب

مذکورہ روایت سے حالت جہاد(میں دشمن کو مرعوب رکھنے اور اس کے سامنے جوانی اور طاقت کے اظہار کے لیے کالا خضاب استعمال کرنے کی اجازت )کی خاص کیفیت مستثنی  ہے، کیونکہ  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کی ایک جماعت سے سیاہ خضاب کا استعمال كرنا  بھی منقول  ہے، جیسا کہ ابن قيم رحمه الله  (المتوفى: 751ھ) نے تفصیل کے ساتھ  لکھا ہے کہ کن کن صحابہ كرام   و تابعین واہل علم سے کالا خضاب لگانا منقول ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :

"أَنَّ الْخِضَابَ بِالسَّوَادِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ خِضَابُ التَّدْلِيسِ، كَخِضَابِ شَعْرِ الْجَارِيَةِ، وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ تَغُرُّ الزَّوْجَ، وَالسَّيِّدَ بِذَلِكَ، وَخِضَابِ الشَّيْخِ يَغُرُّ الْمَرْأَةَ بِذَلِكَ، فَإِنَّهُ مِنَ الْغِشِّ وَالْخِدَاعِ، فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَتَضَمَّنْ تَدْلِيسًا وَلَا خِدَاعًا، فَقَدْ صَحَّ عَنِ الحسن والحسين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا كَانَا يَخْضِبَانِ بِالسَّوَادِ، ذَكَرَ ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْهُمَا فِي كِتَابِ "تَهْذِيبِ الْآثَارِ " وَذَكَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَحَكَاهُ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ: مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَمُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، وَالزُّهْرِيُّ، وأيوب، وإسماعيل بن معدي كرب. وَحَكَاهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، ويزيد، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وأبي يوسف، وأبي إسحاق، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَزِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، وغيلان بن جامع وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، وعمرو بن علي المقدمي، وَالْقَاسِمِ بْنِ سَلَامٍ. "

(زاد المعاد، حرف الكاف، كتم، (4/ 337 و338)، ط/ مؤسسة الرسالة، بيروت)

علامہ عینی رحمہ اللہ(المتوفى: 855ھ)نےبھی  اس تفصیل کو کچھ ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے: 

"وذكر ابن أبي العاصم بأسانيد: إن حسنا وحسينا رضي الله عنهما، كانا يختضبان به، أي: بالسواد، وكذلك ابن شهاب، وقال: أحبه إلينا أحلكه، وكذلك شرحبيل بن السمط، وقال عنبسة بن سعيد: إنما شعرك بمنزلة ثوبك فاصبغه بأي لون شئت، وأحبه إلينا أحلكه. وكان إسماعيل بن أبي عبد الله يخضب بالسواد، وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، أنه كان يأمر بالخضاب بالسواد، ويقول: هو تسكين للزوجة وأهيب للعدو، وعن ابن أبي مليكة: أن عثمان كان يخضب به، وعن عقبة بن عامر والحسن والحسين أنهم كانوا يختضبون، ومن التابعين: علي ابن عبد الله بن عباس وعروة بن الزبير وابن سيرين وأبو بردة. "

(عمدة القاري، باب الجعد،(51/22)، ط/ دار احیاء التراث العربی)

 ممانعت  کی روایت کے باوجود  جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسا کرنے کا ثبوت اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ممانعت  کی  روایت بالکل عام نہیں ہے، بلکہ اس سے خا ص حالت کو استثنا حاصل ہے ، جو مذکورہ روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے  جملہ ’’وأهيب للعدو‘‘  (یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کالے خضاب کے لگانے کا حکم فرماتے تھے اس وضاحت کے ساتھ کہ اس سے  دشمن  زیادہ ہیبت زدہ (مرعوب) ہوتا ہے،) سے خاص حالتِ جہاد کے ہونے کو ہی بتلاتا ہے،  یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے بھی خاص حالت جہاد میں کالے خضاب کےاستعمال کو اس منع والی روایت سے مستثني قرار دے کر مجاہد کے لیے اس کے استعمال کو درست قرار دیا ہے،   اور  جن صحابہ رضی اللہ عنہم سے کالا خضاب لگانامنقول ہے اس کا محمل بھی خاص حالتِ جہاد کو ہی قرار دیا ہے۔

چنانچہ شارح مصابيح السنۃ علامہ ابن المَلَك  رحمہ اللہ (المتوفى: 854 ھ)  لکھتے ہیں : 

"واجتَنِبُوا السوادَ، قيل: هذا في حقِّ غيرِ الغُزَاة، وأما مَن فعلَ ذلك مِن الغُزَاة؛ ليكون أهيبَ في عينِ العدوّ، لا للتزين فلا بأسَ به، روي: أن عثمانَ والحسنَ والحسينَ خَضَبُوا لحاهم بالسواد للمهابة.

(شرح المصابیح لابن الملک، (53/5) تحت رقم (3414)، ط/إدارة الثقافة الإسلامیة)

علامہ شامی رحمہ اللہ (المتوفى: 1252ھ)  نقل فرماتے ہیں: 

"قوله - عليه الصلاة والسلام - «غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد» اهـ قال الحموي: وهذا في حق غير الغزاة، ولا يحرم في حقهما للإرهاب، ولعله محمل من فعل ذلك من الصحابة."

(الدرالمختار وحاشیةابن عابدین، (756/6)، ط/ دارالفکر)

خلاصہ یہ  کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ نےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کرنے کی بنا پرخاص  طور پر حالتِ جہاد میں کفار پر اسلام اور مجاہدینِ اسلام کی  شان وشوکت کے اظہار  اور ان پر رعب مسلط کرنے کی غرض  سے  سیاہ خضاب سے متعلق عمومی ممانعت پر مشتمل روایات سے مجاہدوغازی کو مستثنی قرار دیا ہے۔

فقط واللہ اعلم 

 


فتوی نمبر : 144308102191

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں