بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محرم الحرام یا ربیع الاول میں کھانے کی تقسیم اور اس سے کھانے کا حکم


سوال

یکم محرم الحرام اور 12 ربیع الاول میں مسجد کے گیٹ پر سے لنگر تقسیم کرنا  ، یکم محرم الحرام کو تقسیم کرنے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ نئےسال کی شروعات ہیں،  اور اس کے کھانے کا شرعی کیا حکم ہے؟میں چوں کہ ایک امام ہوں تو میرے لیے 10 محرم الحرام کو کچھ لوگ کھانا بھیجواتے ہیں،  اسی طریقے سے کچھ لوگ کولڈرنگ تقسیم کرتے ہیں،  تو وہ ہمارے لیے مسجد میں بھی بھجوا دیتے ہیں،  اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

یکم محرم یا بارہ ربیع الاول کو کھانا تقسیم کرنے کو لازم سمجھنا اور اس کا التزام کرنا اور اس کو دین کا جزو بنانا بدعت ہے، اس بدعت اور التزام کو ختم کرنے کے لئے نہ ان ایام میں خاص  کھانا تقسیم کرنا چاہیے اور نہ  ایسا کھانا قبول  کرنا چاہیے، البتہ اگر ان  ایام میں  کہیں سے کھانا آ گیا  تو اس کے کھانے کا حکم یہ ہے  کہ  اگر وہ کھانا    اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام کی نذر و نیاز ہو تو اس کا کھانا حرام ہوگا، اور اگر وہ اللہ کے نام کی نیاز ہو اور ایصالِ ثواب مقصود ہو تو  بھی چوں کہ ان ایام کو خاص کرکے کھانا یا کولڈرنگ وغیرہ تقسیم کرنا التزام و اہتمام کی وجہ سے  بدعت بن چکا ہے، اس لیے اگر کوئی  ضرورت مند نہ ہو تو اس کے لیے  ایسے کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر ضرورت مند ہو تو  تو اس کے لیے کھانے کی گنجائش ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد   ہے:

"{ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ}." (البقرة :173)

ترجمہ:"اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف حرام کیا ہے مردار کو اور خون کو (جو بہتا ہو) اور خنزیر کے گوشت کو (اسی طرح اس کے سب اجزاء کو بھی) ایسے جانور کو جو (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر بھی جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ (قدر حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو اس شحص پر کچھ گناہ نہیں ہوتا واقعی اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفوررحیم۔"(بیان القرآن)

صحيح البخاري  میں ہے:

"عن عائشة رضي الله عنها قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌من ‌أحدث ‌في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد."

ترجمہ:" عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:کہ جس نے ہماری دین میں ایسی بات ایجاد کی جس کا تعلق  ہمارے حکم سے  نہیں ہے تو وہ رد کردینے کے قابل ہے۔"

(صحيح البخاري، باب: إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، ج:2، ص:959،  رقم:2550، ط:دار ابن كثير)

صحيح مسلم ہے:

"عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ‌من ‌عمل عملا ليس عليه أمرنا ‌فهو ‌رد."

(صحيح مسلم،‌‌باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور،  ج:5، ص:132،   رقم:1718، ط:دار الطباعة العامرة التركية)

ترجمہ:" عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:کہ جس نے (دین سمجھ کر) ایسا کام کیا جس کے تعلق سے ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ رد کردینے کے قابل ہے۔"

التفسیر الکبیر میں ہے:

"والحجة فیه انھم اذا ذبحوا علی اسم المسیح فقد اھلو به لغیر اللہ فواجب ان یحرم وروی عن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قال اذا سمعتم الیھود والنصاری یھلون لغیر اللہ فلا تاکلوا ."

(البقرة:73، ج:3، ص:23،  ط: دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك،..ولا سيما في هذه الأعصار وقد بسطه العلامة قاسم في شرح درر البحار، ولقد قال الإمام محمد: لو كانت العوام عبيدي لأعتقتهم وأسقطت ولائي وذلك لأنهم لا يهتدون فالكل بهم يتغيرون."

(كتاب  الصوم، فروع في الصيام، مطلب في النذر الذي ‌يقع للأموات، ج:2، ص:439، طل:سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"قال الطيبي: وفيه أن ‌من ‌أصر ‌على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ."

(کتاب الصلوة، باب الدعاء في التشهد، ج:2، ص:755، ط:دارالفكر)

فتح الباري بشرح البخاري   میں ہے:

"عن الأسود قال: قال عبد الله: لا يجعل أحدكم للشيطان شيئا من صلاته يرى أن حقا عليه أن لا ينصرف إلا عن يمينه، لقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره."

 (باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج:2، ص:338، ط:دار المعرفة)

وتحت ھذا الحدیث:

"أن ‌المندوبات ‌قد تقلب مكروهات إذا رفعت عن رتبتها لأن التيامن مستحب في كل شيء أي من أمور العبادة لكن لما خشي بن مسعود أن يعتقدوا وجوبه أشار إلى كراهته والله أعلم."

 (باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج:2، ص:338، ط:دار المعرفة)

فیض القدیرمیں ہے : 

"من سود بفتح السين وفتح الواو المشددة بضبطه أي من كثر سواد قوم بأن ساكنهم وعاشرهم وناصرهم فهو منهم وإن لم يكن من قبيلتهم أو بلدهم مع قوم فهو منهم."

(حرف المیم،ج:6، ص:156، ط: المکتبة التجاریة الکبری)

الاعتصام للشاطبي   میں ہے:

"والمطلوب تركه لم يطلب تركه إلا لكونه مخالفا للقسمين الأخيرين، لكنه على ضربين،... الثاني أن يطلب تركه وينهى عنه لكونه مخالفة لظاهر التشريع; من جهة ضرب الحدود، وتعيين الكيفيات، والتزام الهيئات المعينة، أو الأزمنة المعينة مع الدوام، ونحو ذلك، وهذا هو الابتداع والبدعة، ويسمى فاعله مبتدعا...فالبدعة إذن عبارة عن: طريقة في الدين مخترعة، تضاهي الشرعية يقصد بالسلوك عليها المبالغة في التعبد لله سبحانه."

 (‌‌الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا، ج:1، ص:50، ط:دار ابن عفان، السعودية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501101629

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں