بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

محرم کے پہلے عشرے میں روزوں کا حکم


سوال

 کیا محرم کے مہینے میں ایک محرم سے دس محرم تک روزہ کی برکت قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

محرم الحرام کا مہینہ قابلِ احترام  اور عظمت والا مہینہ ہے، اس میں دس محرم الحرام کے روزے   کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، اور یومِ عاشورہ کے علاوہ  اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے (نہ کہ صرف پہلے عشرے میں)، اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ 

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل ترین روزے رمضان کے  بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔

 ’’[عن أبي هريرة:] سُئلَ: أيُّ الصلاةِ أفضلُ بعد المكتوبةِ؟ وأيُّ الصيامِ أفضلُ بعد شهرِ رمضانَ؟ فقال " أفضلُ الصلاةِ، بعد الصلاةِ المكتوبةِ، الصلاةُ في جوفِ الليل ِ. وأفضلُ الصيامِ، بعد شهرِ رمضانَ، صيامُ شهرِ اللهِ المُحرَّمِ ". م

(٢٦١ هـ)، صحيح مسلم ١١٦٣ • صحيح •‘‘.

اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو  شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا  تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو  شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔

 ’’[عن عبدالله بن عباس:] من صام يومَ عرفةَ كان له كفَّارةَ سَنتيْن، ومن صام يومًا من المُحرَّمِ فله بكلِّ يومٍ ثلاثون يومًا‘‘.

(المنذري (٦٥٦ هـ)، الترغيب والترهيب ٢/١٢٩ • إسناده لا بأس به • أخرجه الطبراني (١١/٧٢) (١١٠٨١)، وفي «المعجم الصغير» (٩٦٣)

ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رمضان المبارک کے علاوہ کس مہینے میں روزے رکھنے کا آپ مجھے حکم دیں گے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا ہوں تو محرم میں رکھو؛  کیوں کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ قبول کریں گے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضوی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس اہتمام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے کوئی اور روزہ نہیں رکھتے تھے۔

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزیں کبھی ترک نہیں فرماتے تھے: 1- عاشوراء کا روزہ۔ 2- عشرہ ذو الحجہ کے روزے۔ 3- ہر ماہ تین روزے۔ 4- فجر سے پہلے دو رکعت۔

خلاصہ یہ کہ محرم کے پورے مہینے میں کسی بھی دن روزے رکھنا فضیلت کا باعث ہے، نیز عاشوراء کے روزے کی بھی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے، لیکن محرم کے پہلے عشرے کے روزوں کی  مستقل فضیلت احادیث میں وارد نہیں ہے، نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول پورے محرم میں یا اس کے پہلے عشرے میں مستقل روزے رکھنے کا تھا،  بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاتِ طیبہ کے آخری سال دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کے روزے کا ارادہ فرمایا تھا، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم کے پہلے عشرے میں مستقل روزے نہیں رکھتے تھے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں