بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد سبحان نام رکھنا


سوال

محمد سبحان لڑکے کا نام رکھنا درست ہے ؟

جواب

سبحان‘‘  کے معنی  کسی کو تمام عیوب اور نقائص سے پاک ٹھہرانا یا بتانا ہے،سبحان، اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان ہے، اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور  کے بارے میں  ’’سبحان‘‘  نہیں کہا جاسکتا؛ لہٰذالڑکے کا نام  "محمد سبحان" رکھنا درست نہیں ہے، "عبدالسبحان" نام رکھ سکتے ہیں، لیکن بہتر ہے کہ اس  کےبجائے  کوئی دوسرا نام تجویز کرلیں۔

انبیائے کرام علیہم  الصلاۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان  اللہ علیہم اجمعین یا اولیاءِ کرام رحمہم اللہ کے ناموں میں سے یا کوئی اچھا بامعنی نام  کا انتخاب کرلیا جائے۔

تفسیر قرطبی میں ہے:

"قوله تعالى: (سبحان) " سبحان" اسم موضوع موضع المصدر، وهو غير متمكن، لأنه لا يجري بوجوه الإعراب، ولا تدخل عليه الألف واللام، ولم يجر منه فعل، ولم ينصرف لأن في آخره زائدتين، تقول: سبحت تسبيحا وسبحانا، مثل كفرت اليمين تكفيرا وكفرانا. ومعناه التنزيه والبراءة لله عز وجل من كل نقص. فهو ذكر عظيم لله تعالى لا يصلح لغيره، فأما قول الشاعر:أقول لما جاءني فخره ... سبحان من علقمة الفاخر فإنما ذكره على طريق النادر. وقد روى طلحة بن عبيد الله الفياض أحد العشرة أنه قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ما معنى سبحان الله؟ فقال:" تنزيه الله من كل سوء". والعامل فيه على مذهب سيبويه الفعل الذي من معناه لا من لفظه، إذ لم يجر من لفظه فعل، وذلك مثل قعد القرفصاء، واشتمل الصماء «٣»، فالتقدير عنده: أنزه الله تنزيها، فوقع" سبحان الله" مكان قولك تنزيها."

(الاسراء: ۱ جلد ۱۰ ص: ۲۰۴ ط: دارالکتب المصریة ۔ القاهرۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں