بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد صارم نام رکھنے کا حکم


سوال

اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا ہے جس کا نام "محمد صارم"  رکھا ہے ،  کیا یہ نام ٹھیک ہے ؟

جواب

"مُحَمَّد " کا معنی ہے:بہت تعریف کیا جانے والا۔  (القاموس الوحید، المادّہ: حمد، ص:373، ط:ادارۃ الاسلامیات)

محمّد حضوراکرمﷺ کے اسماءِ مبارکہ میں  سے مشہور اسمِ  مبارک ہے۔

"صَارِم"  کا معنی ہیں: بہادر آدمی، ارادےکا پکا،  مستقل مزاج، شیر   ۔ (القاموس الوحید، المادّہ: ص، ر، م، ص:923، ط:ادارۃ الاسلامیات)  اس کے مادے "ص، ر، م" سے "اُصَیرِم" ایک صحابی کا لقب ہے۔

لہذا بچے کا نام " محمد صارم " رکھنا درست ہے۔  البتہ "ص، ر، م" کے مادے سے "اَصرَم" نام کو رسول اللہ ﷺ نے تبدیل فرمادیا تھا، اس لیے اگر اس کے علاوہ نام رکھ لیا جائے تو زیاہ دبہتر ہوگا۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں