بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد روحان نام رکھنے کا حکم


سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد روحان  رکھا ہے،   کیا انگریزی میں یوں muhammad rohaanدرست ہے؟ میں بہت وسواسی سا بندہ ہوں اور کاغذات میں اس طرح درج کیاہے لہذا انگریزی اور اردو میں یہ درست ہے؟ 

جواب

" محمد" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے ،  سعادتوں اور برکتوں کے حصول کے لیے نیز محبت وعقیدت میں نامِ نامی اسمِ گرامی ’’محمد‘‘ (ﷺ)" کی نسبت سے   ’’ محمد‘‘  نام  رکھنے کو  یا بطور برکت نام کے شروع میں لانے کو علماء وصلحاء نے انتہائی مستحسن قرار دیاہے، اور بعض احادیث میں اس کے فضائل بھی وارد ہیں ،"روحان" عربی زبان کا لفظ ہے ،اس کا مادہ "روح "ہے  (’’راء‘‘کے زبر کے ساتھ  )اس کا معنی ہے :خوش گوار، بادِ نسیم، مہربانی، رحم، خوشی و مسرت،ایک شہر کا بھی نام ہے ،اس لفظ کے معانی اچھے ہیں؛ لہذا یہ نام رکھنا درست ہے۔ اور انگریزی میں اس کے تلفظ یعنی اسپیلنگ  (rauhaan) ہوں گے۔

’ ’رُوحان‘‘ (را پر پیش اور واو مدہ کے ساتھ) ’’روح‘‘  کی تثنیہ ہے، اور روح کے مختلف معانی ہیں، جن میں سے مشہور و معروف معنی ’’روح‘‘ ہی ہے۔ اس لحاظ سے ’’روحان‘‘ کا معنی ہوگا: ’’دو روحیں‘‘، یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

القاموس الوحید میں ہے :

"الروح:مہربانی،رحم ،باد ِ نسیم ،لطیف ہوا ،خوش گوار دن ،خوشی ومسرت ".

(ص:682،ادارہ اسلامیات)

تاج العروس  میں ہے :

"{والرَّوْحُ أَيضاً: السُّرُورُ والفَرَحُ. واستعارَه عليٌّ رَضِيَ اللَّهُ عنهُ لليَقِينِ فَقَالَ: (باشرُوا رَوْحَ اليَقِينِ) ، قَالَ ابْن سَيّده: وَعِنْدِي أَنه أَراد (السُّرورَ الحادِثَ من اليَقِينِ)".

(ج:6،ص:426،وزارۃ الارشاد والانباء فی الکویت)

وفيه أيضاّ:

"{والرَّوْحَانُ: ع ببلادِ بني سَعْد) بنِ ثَعْلَبة".

(ج:6،ص:430،وزارۃ الارشاد والانباء فی الکویت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102129

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں