بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

محمد نام تبدیل کرنا


سوال

محترم حضرت مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک شخص نے بچے کی پیدائش سے پہلے نیت کرلی کہ اگر اللہ تعالیٰ بیٹا عنایت فرمائیں گے تو نام محمد رکھوں گا۔ الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے اس کو بیٹا عنایت فرمایا، اور اس شخص نے اس کا نام محمد رکھ دیا، اب مسئلہ یہ ہے کہ اکثر بچے لفظ محمد کو بگاڑتے ہیں یا گھر پر کوئی غلطی کرتے وقت والدہ نام لے کر کچھ نازیبا الفاظ استعمال کرجاتی ہیں جو کہ لفظ محمد کے ساتھ ہرگز اچھے نہیں لگتے اور صاحب ایمان شخص لفظ محمد کے ساتھ کسی قسم کا نازیبا لفظ ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ اس وضاحت کے بعد درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:1- کیا اس نام کو تبدیل کرسکتا ہے؟ اگر تبدیل کردیا تو کوئی گناہ تو نہیں ہوگا کیوں کہ پیدائش سے قبل نیت ہی محمد نام رکھنے کی کی تھی؟2- کیا لفظ محمد کے ساتھ کوئی دوسرا نام جوڑسکتے ہیں جیسے محمد عبد اللہ، محمد حامد، محمد عبد الرحمن، وغیرہ وغیرہ؟ ازراہِ کرم درج بالا سوالات کے مفصل جواب عنایت فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے اور جامعہ بنوری ٹاون کے فیوض و برکات کو تا قیامت جاری و ساری رکھے۔

جواب

۱۔ نام تبدیل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے تاہم اس مبارک نام کو تبدیل کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا،اس کے بجائے بچوں اور والدہ کو تنبیہ کی جائے کہ اس نام کو درست انداز سے ہی پکارا جائے۔۲۔ دوسرا نام ساتھ جوڑنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔


فتوی نمبر : 143406200058

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں