بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد نام کے فضائل


سوال

بچے کا نام محمد رکھنے کی فضیلت کس حدیث سے ثابت ہے ؟

جواب

امام نووی ؒ نے احادیث کی روشنی میں یہ بات  لکھی ہے کہ "محمد" نام اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر والوں (دادا وغیرہ) کو  الہام کیا گیا تھا،گویا کہ یہ اللہ کا منتخب کردہ نام ہے،اس نام کی فضیلت کے لیے یہی ایک بات کافی ہے کہ اس نام کا انتخاب اللہ تعالی نے فرمایا۔

"شرح مسلم للنووی" میں ہے:

"قال أهل اللغة يقال رجل محمد ومحمود إذا كثرت خصاله المحمودة وقال بن فارس وغيره وبه سمي نبينا صلى الله عليه وسلم محمدا وأحمد أي ألهم الله تعالى أهله أن سموه به لما علم من جميل صفاته قوله صلى الله عليه وسلم".

(كتاب الفضائل، باب في اسمائه، ج:15،ص:104،ط:دار احىاء التراث العربي)

2۔  اسی طرح  حضور ﷺ نے محمد نام رکھنے کی ترغیب دی ، جیساکہ حدیث  شريف میں ہے:

"سمّوا بإسمي، ولا تكنوا بكنيتي".

"میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو"۔ 

(صحیح مسلم، کتاب الآداب،ج:3،ص:1682، ط: دار احیاء التراث العربی)

3۔  آپ ﷺ نے خود بھی کئی بچوں کا نام ”محمد“  رکھا ہے، یعنی رسول اللہﷺ کی خدمت میں جب  نومولود بچے لائے جاتے تھے  تو آپﷺ  تحنیک (گھٹی) کے بعد ان کا نام بھی تجویز فرماتے، چناں چہ ان میں سے کئی بچوں کانام آپ ﷺنے ”محمد“ رکھا۔  اسی طرح آپ ﷺ کا معمول تھا کہ نومسلموں میں سے بھی  اگر کسی کا نام صحیح نہ ہوتا  تو آپ ﷺ اس کا نام  تبدیل  فرمادیتے، چناں چہ کچھ صحابہ کا نام  آپ ﷺ نے خود تبدیل کرکے ”محمد“ رکھا۔

"الإصابة في تمييز الصحابة": میں ہے:

محمد بن الجد بن قيس الأنصاريّ.

"ذكره ابن القداح، وقال: ‌سمّاه ‌النبيّ صلى الله عليه وسلم ‌محمدا، وشهد معه فتح مكة، حكاه ابن أبي داود عنه، وأخرجه ابن شاهين، واستدركه أبو موسى، وذكر محمد بن حبيب في كتابه «المحبر» أنه أول من سمّي محمدا في الإسلام من الأنصار".

(محمد بن الجد، ج:6،ص:6،ط:العلمية)

4۔  ایک حدیث  شریف میں آپ ﷺ نےامت کو  ”محمد“نام رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"ما ضر أحدكم لو كان في بيته محمد ومحمدان وثلاثة".

ترجمہ: تم میں سے کسی کا کیا نقصان ہے(یعنی کوئی نقصان نہیں ) اس بات میں کہ اس کے گھر میں ایک، دو یا تین محمد(نام والے) ہوں۔

(فيض القدير،ج:5،ص: 435،حرف المیم، ط:المکتبۃ التجاریہ الکبری ، مصر)

کتابوں میں ”محمد“ نام رکھنے کے فضائل پر متعدد روایات نقل کی گئی ہیں ،  لیکن چوں کہ ان پر شدید جرح ہوئی ہے اور بعض روایات کو موضوع اور بعض کو کذب بھی لکھا گیا ہے؛ اس لیے یہاں صرف چند ایسی احادیث  ذکر کی جارهی ہیں  جو بعض محدثین کے یہاں صحیح یا ثابت ہیں:

5.”العرف الشذی“(جوکہ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تقریرِ درسِ ترمذی ہے) میں  "معجم الطبرانی" کے حوالہ  سے نقل کی گئی ہے کہ" جس نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا ، میں اس کی شفاعت کروں گا"۔

" وفي رواية في المعجم للطبراني: "من سمى ولده محمداً، أنا شفيعه. وصحّحها أحد من المحدثين وضعّفه آخر".

 (کتاب الآداب، باب ما جاء یستحب من الأسماء ،ج:4،ص:181 ط: دارإحیاء التراث العربي، بیروت)

6..."سیرتِ حلبیہ" میں ایک اور معضل روایت نقل کی گئی ہے  کہ "قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اےمحمد! اٹھیے اور بغیر حساب  کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیے ، تو ہر وہ آدمی جس کا نام ”محمد“ ہوگا  یہ سمجھتے ہوئے کہ  یہ اسے کہا جارہا ہے  وہ (جنت میں جانے کے لیے) کھڑا ہوجائے گا تو حضرت محمدﷺ کے اِکرام میں انہیں جنت میں جانے سے نہیں روکا جائےگا۔"

"وفي حديث معضل: "إذا كان يوم القيامة نادى منادٍ: يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب! فيقوم كل من اسمه محمد، يتوهم أن النداء له؛ فلكرامة محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون".

(باب تسمیته ﷺ محمداً واحمد،ج:1،ص:121، ط: دارا لکتب العلمیة)

7... امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں  کہ "میں نے اہلِ مکہ سے سنا ہے کہ  جس گھر میں ”محمد“ نام والا ہو تو اس کی وجہ سے ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق دیا جاتا ہے۔"

"سمعت أهل مكة يقولون: ما من بيت فيه اسم محمد إلا نمى ورزقوا ورزق جيرانهم".

(كتاب الشفاء، الباب الثالث، الفصل الأول،ج:1،ص:176،ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102509

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں