بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد بن ابوبکر کا تعارف


سوال

محمّد بن ابی بکر کون تھے ؟ کیا ان کا شمار صحابہ یا تابعین میں ہوتا ہے؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتلوں میں سے ہیں ، اور ایک عام مسلمان کو ان کے بارے میں کیا رائے رکھنی چاہیے؟ 

جواب

حضرت محمد بن ابو بکر ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی کے فرزندہیں، جو اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے حجۃ الوداع کے سفر کے موقع پر پیداہوئے،  حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زیرِ سایہ پرورش پائی؛ کیوں کہ والد کی وفات کے بعد، والدہ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ تعالی سے ہو گیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے ان بھائي  سے بہت محبت کیا کرتی تھیں، حتی کہ آپ  نے ان کے بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی ان کی کنیت ابو القاسم رکھی ، اور ان کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے کی خوب پرورش کی، اور ان کی  ایسی تربیت کی  کہ وہ  مدینہ کے فقہائے سبعہ میں سے بنے ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کےتذکرہ نگاروں ،  جیسے ابو نعیم الاصفہانی(430ھ)، ابن عبد البر(463ھ)، ابن اثیر الجزری (630ھ)، اور ابن حجر( 852ھ) وغیرہ رحمہم اللہ تعالی نےانہیں صحابہ کی فہرست میں شامل کیا ہے، جبکہ روایت کے باب میں ان کا تذکرہ تابعین میں ملتا ہے،آپ کی روایات  کئی ائمہ محدثین  اپنی کتابوں میں لائے ہیں ۔

آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل میں شریک تھے یا نہیں؟  اس حوالے سے روایات میں اختلاف ہے،  اکثر روایات میں ہے کہ آپ شروع میں شریک ہوئے تھے، لیکن جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی نے انہیں ان کے والد ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی یاد دلائی تو وہ پیچھے ہٹھ گئے،اور گھر سے باہر نکل گئے۔

محدث ابو نعیم الاصبہانی "معرفة الصحابة"  میں اپنی سند سے روایت لائے ہیں: 

" محمد بن طلحة، قال: سمعت كنانة، مولى صفية بنت حيي، قال:  شهدت مقتل عثمان، وأنا ابن أربع عشرة سنة، فقلت: هل أندى محمد بن أبي بكر بشيء من دمه، فقال: معاذ الله، دخل عليه، فقال عثمان: يا ابن أخي لست بصاحبي، فخرج ولم يند من دمه بشيء...الخ."

ترجمہ:

"محمد بن طلحہ بيان كرتے هيں : میں نے  صفيہ بنت حیی كے آزاد كردہ غلام كنانہ سے سنا كہ میں عثمان رضي الله تعالي عنه كي شهادت كے وقت موجود تھا،اس  وقت میری عمر چودہ سال تھی، میں نے عرض کیا: کیا محمد بن ابو بکر نے اپنے ہاتھ عثمان رضی اللہ تعالی کے خون سے رنگین کیے تھے، انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ! ( اللہ کی پناہ) تاهم وہ ان کے پاس گئے تھے، عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : اے بھتیجے! تو میرا ساتھی نہیں ہے؟ تو اس وقت وہ وہاں سے چلے گئے، اور ذرابھی اپنے ہاتھوں کو ان کے خون سے نہیں رنگا۔"

(معرفةالأصحاب لابي نعيم الأصبهاني،ترجمة عثمان بن عفان، الرقم: 257، 1: 66، دار الوطن، ط: الأولى، 1419ھ)

حافظ المغرب ابن عبد البر رحمہ اللہ تعالی "الاستيعاب" میں لکھتے ہیں:

"وكان ممن حضر قتل عثمان. وقيل: إنه شارك في دمه، وقد نفى جماعة من أهل العلم والخبر أنه شارك في دمه وأنه لما قال له عثمان: لو رآك أبوك لم يرض هذا المقام منك خرج عنه وتركه ثم دخل عليه من قتله."

ترجمہ:

"محمد بن ابو بکر ان لوگوں میں سے ہیں جو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے وقت موجود تھے، اور ایک قول یہ ہے  وہ ان کے قتل میں شریک تھے، اہل علم کی ایک جماعت نے اس بات کی نفی کی ہے، اور خبر یہ ہے( صحیح بات یہ ہے) کہ انہوں نے ابتداءً شرکت کی تھی، لیکن جب عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اگر اس جگہ آپ کے والد آپ کو دیکھتے تو وہ ہر گز آپ سے خوش نہ ہوتے، تب یہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، پھر بعد ازاں ان کے قاتلین داخل ہوئے۔ "

الإستيعاب في معرفة الأصحاب، 1: 425، حرف الميم، ص: 1367،دار الجيل 1412ه 

ابن اثیر جزری رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:

"وكان ممن حصر عثمان بن عفان ودخل عليه ليقتله فقال له عثمان لو رآك أبوك لساءه فعلك فتركه."

"یہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے محاصرہ کرنے والوں میں سے ہیں، اوریہ انہیں  قتل کرنے کے لیے گئے تھے، (لیکن) جب  انہوں نے فرمایا: اگر آپ کے والد آپ کو دیکھتے تو آپ کا یہ عمل انہیں نا گوارگزرتا، تومحمد بن  ابو بکر نے انہیں چھوڑ دیا۔"

أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن أثير الجزري، رقم الترجمة: 4753، ص: 1100، دار ابن حزم، ط: الأولى،1433ه

ایک عام مسلمان  کو ان کے متعلق اچھی رائے رکھنی چاہیے، ان کا احترام سے نام لینا چاہیے، کیوں کہ اگر وہ صحابی ہیں تو اللہ تعالی ان سے راضی ہو چکے ہیں، اور اگر تابعی ہیں تب بھی ان کی بعد کی زندگی عبادت و ریاضت میں گزری، اور ان کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہو چکا ہے، عام مسلمان کو ان کے متعلق تاریخی روایات کا مطالعہ کرکے  رائے زنی نہیں کرنی چاہیے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں