بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد اذہان داؤد نام رکھنے کا حکم


سوال

محمد اذہان داؤد نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

"اَذْہان" عربی زبان میں"ذہن" کی جمع ہے، جس کا معنی ہے: سمجھنا  ۔

"مُحَمَّد" کا معنی ہے:بہت تعریف کیا جانے والا۔ (القاموس الوحید، المادّہ: حمد، ص:373، ط:ادارۃ الاسلامیات)

"داؤد" اللہ تعالیٰ کے مشہور رسول کا نام ہے۔

محمد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ہیں، لہذا بچے کا نام اذہان رکھنے کے بجائے صرف محمد داؤد رکھا جائے تو بہتر بھی ہوگا، اور نام بھی طویل نہیں ہوگا۔

لسان العرب میں ہے:

"( ذهن ) الذهن الفهم والعقل والذهن أيضا حفظ القلب وجمعهما أذهان".

(لسان العرب ، حرف الذاء، ج:13، ص:174، ط: دار صادر)

الفتوحات الربانية على الأذكار النواويةمیں ہے:

"قال العاقولي في شرح المصابيح: ما نهى الشارع عن التسميۃ به، منه ما كان النهي لكون ذلك لايليق إلا باللهِ تعالى كملك الأملاك، ومنه ما نهى عن التسمي به لكونه خاصاً برسول الله -صلى الله عليه وسلم- كأبي القاسم لأنه ما يقسم بين العباد ما أعطاهم الله ومنه ما نهى عن التسمي به لغيره تفاؤلاً لصاحبه كحزن. فسماه صلى الله عليه وسلم سهلاً الحديث ومنه ما نهى عن التسميۃ به لغيره كبرة فغيره -صلى الله عليه وسلم ... واعلم أن التسمي بهذا الاسم حرام وكذا التسمي بأسمائه تعالى المختصة به كالرحمن والرحيم والملك والقدوس وخالق الخلق ونحوها."

(باب النهي عن التسمية بالأسماء المكروهة، ج:6، ص:109/113، ط:دارالكتب العلمية) 

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144506102140

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں