بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محمد عبد الرحمن اور محمد عبد اللہ ریان نام رکھنے کا حکم


سوال

 اللہ پاک کے حکم سےمیرے  دو بیٹے پیدا ہوئے ہیں ،میں نے اپنے دونوں بچوں کانام رکھ لیا ہے، بڑے بیٹے کا نام" محمد عبدالرحمن" اور دوسرے کا نام  بچے کا نام "محمد عبداللہ ریان" رکھا ہے، ان کی پیدائش 1-1-2023 کو اللہ تعالی کے حکم سے ہوئی ،گزارش یہ ہے کہ  ان ناموں کے مطلب کیا ہیں؟یہ نام  رکھنا ٹھیک ہیں؟

جواب

1۔"مُحَمَّد" کا معنی ہے:بہت تعریف کیا جانے والا،"محمد" نبی آخر الزمان کا اسم گرامی ہے۔

"عبدالرحمن" کا معنی ہے:رحمن( اللہ تعالیٰ )کا بندہ، یہ نام حدیث شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ناموں میں سے ہے۔

"عبداللہ" کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کا بندہ، یہ نام حدیث شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ناموں میں سے ہیں۔

"ریان": "را" کے زبر ، "یا" کی تشدید اور زبر کے ساتھ ہے، اس کا معنی "سیراب کرنے والا "ہے، "ریان" جنت کا ایک خاص دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔

لہذا بچوں کا نام "محمد عبد الرحمن" اور "محمد عبداللہ ریان "رکھنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ بہتر بھی ہے۔

صحيح مسلم ميں هے:

"عن سهل بن سعد رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن في الجنة بابا يقال له ‌الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة۔۔۔"

(كتا ب الصيام،باب فضل الصيام،ج:2،ص:808،ط:دار احياء التراث العربي)

ترجمہ:"سہل بن سعد  رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کہ جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں ،قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے۔"

سنن ابي دوؤد ميں هے:

"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌أحب ‌الأسماء إلى الله تعالى عبد الله، وعبد الرحمن."

(كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء،ج:4،ص:287،ط:المكتبة العصرية)

ترجمه:"عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن كان اسمه محمدا لا بأس بأن يكنى أبا القاسم) لأن قوله - عليه الصلاة والسلام - «سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي» قد نسخ لأن عليا - رضي الله عنه - كنى ابنه محمد بن الحنفية أبا القاسم.

(قوله: أحب الأسماء إلخ) هذا لفظ حديث رواه مسلم وأبو داود والترمذي وغيرهم عن ابن عمر مرفوعا. قال المناوي وعبد الله: أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، وأفضلها بعدهما محمد، ثم أحمد ثم إبراهيم اهـ."

(کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج:6، ص:417، ط:دارالکتب العلمیة)

القاموس الوحید میں ہے:

""مُحَمَّد":بہت تعریف کیا جانے والا۔"

 (القاموس الوحید، المادّہ: حمد، ص:373، ط:ادارۃ الاسلامیات)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406100937

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں