بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مضاربت ومشارکت کے نام پر رائج کاروبار


سوال

میں نے پہلے بھی سوال کیاتھا آ پ نے وضاحت طلب کی تھی، میرے سوال کا مقصد یہ ہیکہ ہمارے علاقے راولپنڈی ، پشاور ، مردان وغیرہ علاقوں میں مفتیان حضرات اور علماء کرام کے سرپرستی میں مضاربت ومشارکت کے نام پر ایک کاروبار شروع کیاہے ، اس میں لوگوں سے پیسے لیے جاتے ہیں اور اس سے کاروبار کیاجاتاہے ، اور جنتامنافع ہوتاہےوہ باہم تقسیم کیاجاتاہے ہر ماہ 5500یا 6000یا6500 وغیرہ کے حساب سے منافع آتاہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوتاکہ اس سے  کیاکاروبارکیاجاتاہے اور یہ کاروبارکون کرتاہے ، لیکن مشہورہے کہ یہ مفتیان حضرات کے سرپرستی میں ہوتاہے واللہ اعلم اور بعض لو گ کہتے ہیں کہ تبلیغی اکابرین نے بھی اس میں رقم لگائی ہے،  لیکن وہ اس نے انکارکرتے ہیں اور یہ بہت وسیع پر وگرام ہے لوگوں نے اس میں کروڑوں کاسرمایالگایاہے ،بعض مفتیان کرام کہتے ہیں کہ یہ جائزہے ، اور بعض کہتے ہیں ناجائز ہے مثلاًمستندمفتیان کرام کی رائے مفتی احمد ممتاز،کراچی ۔جامعہ الرشید،کراچی ۔مفتی محمد اسماعیل طورو۔ مفتی محمد رضوان ، ادارہ غفران ۔مفتی ریاض ، تعلیم القرآن ۔مفتی رشید،جامعہ اسلامیہ برائے مہربانی وضاحت کریں اور  تفصیل فرمائیں مع دلائل ۔شکریہ ۔

جواب

صورت مسئولہ میں جس کاروبار کا پوچھا جا رہا ہے اس کا فراڈ اور دھوکہ ہونا واضح ہوچکا ہے اس لیئے اب اسکے جائز ہونے کا سوال لاحاصل ہے۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143406200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں