بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

احناف کے نزدیک ’’مُد‘‘ کی مقدار کا بیان


سوال

احناف کے  نزدیک ’’مُد‘‘  کی  مقدار کیا ہے؟

جواب

’’مُد‘‘  بضم  المیم  (میم پر پیش کے ساتھ) ایک پیمانے  کا نام ہے،امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ   کی تحقیق کے مطابق  ایک ’’صاع‘‘ چار ’’مُد‘‘ کا ہوتا ہے اور ایک ’مُد‘ چار ’رطل‘ کا ہوتا ہے، یعنی ’مُد‘ چوتھائی ’صاع‘ کے برابر ہوتا ہے،جدید اوزان کے اعتبار سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  کی تحقیق  کے  مطابق ایک ’مُد‘  اٹھاسی  (۸۸)  تولہ  کے سیر سے ڈیڑھ سیر  ڈیڑھ  چھٹانک بنتا ہے،اور علامہ شامی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق ایک ’مُد‘ دو  سو ساٹھ  درہم کے برابر ہوتا ہے اور دو سو ساٹھ درہم کا وزن تحقیق مذکور کے موافق آٹھ سو انیس ماشہ یعنی اڑسٹھ تولہ تین ماشہ ہوتا ہے۔

(مستفاد از جواہر الفقہ،ج:۳،ص:۴۱۱)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 158):

’’ (ثم يفيض الماء) على كل بدنه ثلاثًا مستوعبًا من الماء المعهود في الشرع للوضوء والغسل وهو ثمانية أرطال، وقيل: المقصود عدم الإسراف.

(قوله: وهو ثمانية أرطال) أي بالبغدادي، وهي صاع عراقي، وهو أربعة أمداد، كل مد رطلان، وبه أخذ أبو حنيفة. والصاع الحجازي خمسة أرطال وثلث، وبه أخذ الصاحبان والأئمة الثلاثة، فالمد حينئذ رطل وثلث، والرطل مائة وثلاثون درهما وقيل مائة وثمانية وعشرون درهما وأربعة أسباع درهم وتمامه في الحلية. قلت: والصاع العراقي نحو نصف مد دمشقي، فإذا توضأ واغتسل به فقد حصل السنة.

(قوله: وقيل المقصود إلخ) الأصوب حذف قيل لما في الحلية أنه نقل غير واحد إجماع المسلمين على أن ما يجزئ في الوضوء والغسل غير مقدر بمقدار. وما في ظاهر الرواية من أن أدنى ما يكفي الغسل صاع، وفي الوضوء مد للحديث المتفق عليه «كان صلى الله عليه وسلم يتوضأ بالمد، ويغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد» ليس بتقدير لازم، بل هو بيان أدنى القدر المسنون. اهـ. قال في البحر: حتى إن من أسبغ بدون ذلك أجزأه، وإن لم يكفه زاد عليه؛ لأن طباع الناس وأحوالهم مختلفة كذا في البدائع اهـ وبه جزم في الإمداد وغيره.‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں