بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لعن طعن کرنے والے کا حکم


سوال

جو شخص یہ کہے کہ میں اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضي اللہ عنہ کے زمانہ حیات میں ہوتا تو حضرت معاویہ کے خلاف تلوار اٹھاتا اس کے بارے میں کیا رائے ہے کیا وہ کفر کا مرتکب ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ  میں اس شخص کا یہ کہنا کہ میں اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حیات ہوتا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف تلوار اُٹھاتا ،تو اس طرح کہنے سے یہ شخص گمراہ اور بدعتی کہلائے گا،کافر نہیں ہوگا ،اس کو چاہئے کہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ  اس طرح کی بات کرنے سے اجتناب کرے۔

سنن ترمذی ميں ہے :

"عن عبد الله بن مغفل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «‌الله ‌الله ‌في ‌أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه» هذا حديث غريب." 

(باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،696/5،الرقم:3862،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي) 

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ( «سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعدي، فأوحى إلي: يا محمد! إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء، بعضها أقوى من بعض، ولكل نور، فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى» ) قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «أصحابي كالنجوم، فبأيهم اقتديتم اهتديتم» ) . رواه رزين."

(باب مناقب الصحابة،3882/9،الرقم:6018،دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. وذكر في فتح القدير أن الخوارج الذين يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويكفرون الصحابة حكمهم عند جمهور الفقهاء وأهل الحديث حكم البغاة. وذهب بعض أهل الحديث إلى أنهم مرتدون. قال ابن المنذر: ولا أعلم أحدا وافق أهل الحديث على تكفيرهم، وهذا يقتضي نقل إجماع الفقهاء. وذكر في المحيط أن بعض الفقهاء لا يكفر أحدا من أهل البدع. وبعضهم يكفرون البعض، وهو من خالف ببدعته دليلا قطعيا ونسبه إلى أكثر أهل السنة، والنقل الأول أثبت وابن المنذر أعرف بنقل كلام المجتهدين، نعم يقع في كلام أهل المذهب تكفير كثير ولكن ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون بل من غيرهم، ولا عبرة بغير الفقهاء، والمنقول عن المجتهدين ما ذكرنا."

(کتاب الجہاد ،باب المرتد،237/4،ط:دار الفکر)

شرح العقائد میں ہے:

"وما وقع بينم من المنازعات والمحربات فله محامل وتاويلات ،فسبهم والطعن فيهم ان كان ممامخالف الادلة القطعية فكفر كقذف عائشة والا فبدعة وفسق ، وبالجملة :لم ينقل عن السلف المجتهدين ،والعلماء الصالحين جواز اللعن علي المعاوية واحزابه ، لان غاية امرهم البغي ،والخروج علي الامام ،وهو لايوجب اللعن."

( العقائد المتعلقة بالصحابة ،ص:372،ط:مكتبة البشري كراتشي باكستان)

امداد الفتاوی میں ہے:

"سوال(348) : زید کہتا ہے کہ میں حضرت معاویہؓ سے بد عقیدہ ہوں اورکسی طرح جی نہیں چاہتا کہ ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ کہوں مگر اب تک کہا ہے اور کہتا ہوں اور کہوں گا، زید یہ بھی کہتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ تھے تو صحابی مگردل میں سلطنت کی محبت رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح سلطنت یا خلافت میرے ہی خاندان میں رہے اسی بناء پر انہوں نے اپنے بیٹے یزید سے کہہ دیاتھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو مار ڈالنا، پھر زید اس اخیر جملے کے خلاف ایک یہ روایت بیان کرتا ہے کہ انہوں نے (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے) حضرت امام حسینؓ کے مار ڈالنے کو یزید سے نہیں کہا تھا،غرض زید مختلف روایتیں بیان کرتا ہے اور غالباً اول روایت کو صحیح جانتا ہے، زید اپنے خیالات کی تائید میں یہ بھی پیش کرتا ہے کہ شمس التواریخ کے مصنف نے بھی اپنی تصنیف میں جابجا حضرت امیر معاویہ پر طعن کئے ہیں ، زید یہ بھی کہتا ہے کہ حضرت ابو سفیانؓ پکے مسلمان نہ تھے البتہ مرتے وقت پکے مسلمان ہو گئے تھے، اب دریافت طلب یہ ہے کہ زید جو اپنے کو سنّی اور حنفی کہتا ہے تو ان عقائد اور خیالات کے رکھنے سے اس کی سنیت اور حنفیت میں کچھ نقصان آتا ہے یا نہیں ،اور ایسے شخص کے پیچھے نماز وغیرہ پڑھنے میں اور اس کی محفلوں اور جلسوں میں بیٹھنے سے کچھ خرابی تو نہیں آتی،اور یہ ارشاد فرمایئے کہ اہل سنت و الجماعت کو حضرت امیرمعاویہ اور حضرت ابو سفیان سے کیاعقیدہ رکھنا چاہئے اورشمس التواریخ اور اس کے مصنف جو اکبر آبادی ہیں اور غالباً ابھی زندہ ہوں گے اسلام میں کیا رتبہ رکھتے ہیں ، آیا ان کی تصانیف قابل اعتبار ہیں یا نہیں ؟

الجواب: حدیث میں ہے:لا تسبوا أصحابي، فلو أنّ أحدکم أنفق مثل أحدذھبا ما بلغ من أحدھم ولا نصیفہ متفق علیہ۔اور حدیث میں ہے: أکرموا أصحابي فإنھم خیا رکم۔ رواہ النسائي۔اور حدیث میں ہے: لا تمسّ النار مسلما رآني اور رآني من رآني رواہ الترمذی۔ اور حدیث میں ہے:فمن أحبھم فبحبي أحبھم ومن أبغضھم فببغضي أبغضہم رواہ الترمذي۔اور حضرت ابوسفیانؓ اور حضرت معاویہؓ صحابی یقیناً ہیں اس لئے احادیث مذکورہ ان کو شامل ہوگئی، پس ان کا اکرام اور محبت واجب ہوگی اور ان کو بُرا کہنا اور اُن سے بغض ونفرت رکھنا یقیناً حرام ہوگا اور ان سے جو کچھ منقول ہے بعد تسلیم صحت نقل اُن اعمال پر اُن کے حسنات بلکہ خود ایک وصفِ صحابیت غالب ہے جیسا ارشاد نبویؐ فلو أن أحدکم الخاس پر دال ہے اور اسی بناء پرلاتمس النار الخفرمایا ہے، پس جو وسوسہ و خطرہ بلا اختیار دل میں پیدا ہوا وہ عفو ہےاور جو عقیدہ اور تعلق اختیار سے ہو اس کی اصلاح واجب ہے اور جو شخص باختیار بد گمانی یا بد زبانی یا بغض و نفرت رکھے گا لا محالہ وہ احادیث نبویہ کا مخالف اورخارجِ ازاہل سنت والجماعت ہے جیسا کتب اہل سنت سے ظاہر ہےاس لئے اس کی امامت بھی مکروہ ہے اور اختلاط بلا ضرورت ممنوع۔في شرح العقائد النسفیۃ: وما وقع بینھم من المنازعات والمحاربات فلہ محامل و تاویلات فھم والطعن فیھم إن کان مما یخالف الأدلۃ القطعیۃ فکفر کقذف عائشۃ رضي اللّٰہ عنھا وإلا فبدعۃ و فسق۔شمس التواریخ نظر  نہیں گذری نہ مصنف کا حال معلوم ہوا۔"

(کتاب العقائد والکلام،402/5،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144510100815

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں