بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

محمد اشعر نام رکھنا کیساہے؟


سوال

محمد اشعر نام رکھنا کیساہے؟

جواب

"اشعر" کا معنٰی ہے : "بڑا شاعر" اور"زیادہ اور لمبے بالوں والا شخص"، نیز یہ صحابی رسول حضرت خالد بن خلیف رضی اللہ عنہ کا لقب بھی ہے اور حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کا نام بھی ہے، لہٰذا محمد اشعر نام رکھنا جائز ہے۔

الطبقات الکبرٰی  میں ہے:

"‌‌خالد الأشعر بن خليف بن منقذ بن ربيعة بن أصرم بن ضبيس بن حرام بن حبشية بن كعب بن عمرو وهو جد حزام بن هشام بن خالد الكعبي الذي روى عنه محمد بن عمر ، وعبد الله بن مسلمة بن قعنب ، وأبو النضر هاشم بن القاسم، وكان حزام ينزل قديدا. وأسلم خالد الأشعر قبل فتح مكة ، وشهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الفتح ، فسلك هو وكرز بن جابر غير طريق رسول الله صلى الله عليه وسلم التي دخل منها مكة فأخطأ الطريق ولقيتهما خيل المشركين فقتلا شهيدين."

(الطبقة الثانية من المهاجرين والأنصار ممن لم يشهد بدرا ولهم إسلام قديم، خالد الأشعر بن خليف، 293/4، ط: دار صادر)

لسان العرب میں ہے:

"وأشعر: قبيلة من العرب، منهم أبو موسى الأشعري."

(حرف الراء، فصل: الشين المعجمة، 416/4، ط: دار صادر)

وفیہ ایضًا:

"فدخل رجل أشعر: أي كثير الشعر ،طويله."

(حرف الراء، فصل: الشين المعجمة، 411/4، ط: دار صادر)

وفیہ ایضًا:

"شاعره فشعره يشعره، بالفتح، أي كان أشعر منه وغلبه."

(حرف الراء، فصل: الشين المعجمة، 410/4، ط: دار صادر)

مصباح اللغات میں ہے:

"الاشعر: بہت اور لمبے بال والا۔"

(حرف شین، شعر، ص: 436، ط: قدیمی کتب خانہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406102273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں