بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

MTFE میں سرمایہ کاری کا حکم


سوال

 ایم ٹی ایف ای ایک آن لائن کمپنی کی  ایپ ہے، مذکورہ کمپنی (MTFE) کے بقول : ان پیسوں سے آپ اس اپلیکیشن پر مینول طریقہ سے بھی ٹریڈنگ کرسکتے  ہیں،اور دوسرا آپشن اس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی (Ai) کا ہے، تو جب آپ Ai کو اس اپلیکیشن میں آن کرتے ہے، تو پھر Ai ہی آپ  کے لیے ٹریڈنگ کررہا ہوتا ہے، اور آپ کے انویسمنٹ کیٹیگری کے حساب سے روزانہ منافع دیتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ کے MTFE میں 201 ڈالر پڑے ہیں، تو وہ روزانہ 5 سے لے کر 12 ڈالر تک کا منافع دیتا ہے، نیز ہفتے اور اتوار کے دن چھٹی ہوتی ہے ، ہفتے میں ایک آدھ بار اتنا ہی خسارہ بھی ہوتا ہے، کمپنی کرپٹو میں بھی ٹریڈ کرتی ہے اور مشہور کمپنیاں جیسے ٹیسلا، یو ایس آئیل، وغیرہ میں بھی ٹریڈ کرتی ہے، جس کا اپلیکیشن میں گراف ہوتا ہے اونچ نیچ کا۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ یہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

واضح رہےکہ  شرعاً   شرکت اور مضاربت  میں  نفع کی مقدار نفع کی فیصدی اعتبار سے طے کرنا لازمی ہے،یعنی انوسٹر جب کسی فرد یا کسی کمپنی میں اپنی رقم انوسٹ کرے، تو کمپنی کو جو منافع ہو اس میں  سے طے شدہ فیصد  انوسٹر کو بطور منافع  ادا کرے تو  یہ شرعاً جائز ہے، اس کے برخلاف  انوسٹر کے لیے  بطور منافع  مخصوص رقم متعین کرنا،  یا اصل سرمایہ کے تناسب سے رقم کا ملنا  شرعاً   ناجائز ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل  کی بیان کردہ صورت کے مطابق اصل سرمایہ کے تناسب سے انوسٹر کو منافع ملتا ہے،  لہذا مذکورہ صورت میں MTFE کمپنی میں انوسٹمنٹ ناجائز ہے، اور اس کمپنی سے حاصل ہونے والی  آمدحرام اور سود   ہے، نیز  مذکورہ کمپنی اگر کرپٹو کرنسی میں ٹریڈ کرتی ہے تو اس بنیاد پر بھی اس کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنا شرعًا جائز نہیں ہوگا، باقی یہ کمپنی آگے جن مقامات پر انوسٹمنٹ کرتی ہے اس کی شرائط  اور طریقہ کار اس سوال میں موجود نہیں ہے، لہذا طریقہ کار اور شرائط ذکر کی جاۓ تو مکمل تفصیلی جواب دیا جاۓ گا۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"ولنا قوله - عليه الصلاة والسلام - «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» ولأن الربح يستحق بأحد ثلاثة أمور بالمال والعمل والضمان وقد وجد العمل هنا فوجب أن يستحق المشروط به كالمضارب فإنه يستحقه بالعمل والأستاذ الذي يتقبل الأعمال بالضمان وغيرهما بالمال ولأن الحاجة مست إلى اشتراط التفاضل لأن أحدهما قد يكون أهدى وأحذق في التجارة ولا يرضى بالمساواة فوجب القول بجوازه كي لا تتعطل مصالحهم بخلاف اشتراط جميع الربح لأنه يخرج به عن الشركة والمضاربة إلى القرض أو البضاعة وبخلاف الوضيعة لأنه أمين فلا يجوز اشتراط الضمان عليه لأن الأمانة تنافيه كالوديعة وغيره ولا ينافي استحقاق الزيادة من الربح بعمله بشرط أن يكون عمله مثل عمل شريكه أو أكثر لما ذكرنا ولأنه يشبه المضاربة من حيث إنه يعمل بمال غيره ويشبه الشركة من حيث الاسم ووجود العمل والمال منهما فقلنا جاز اشتراط الزيادة اعتبارا بالمضاربة ولا تبطل باشتراط العمل عليهما اعتبارا بالشركة يحققه أن كلا منهما يعمل في مال صاحبه وفي مال نفسه وعمله في مال صاحبه بأجرة فيستحق المسمى فيه كالمضاربة".

( كتاب الشركة، 318/3 ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

شرح المجلہ میں ہے:

"یشترط ان تكون  حصة الربح الذي بين الشركاء جزءا شائعا كالنصف والثلث والربع فاذا اتفق على ان يكون لاحد الشركاء كذا درهما مقطوعا من الربح تكون الشركة باطلة. لانه يحتمل ان لايربح غير الدراهم المسماة فيكون الربح كله لاحدهما مع ان الشركة تقضي الاشتراك في الربح وذلك يقطعها فتفسد."

(الكتاب العاشر، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل الثاني في بيان شرائط شركة العقد العمومية، (المادة:1338) 561/2، ط:رشيدية) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501102513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں