بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی چھت کی تعمیر کے لیے لیے گئے چندہ سے امام مسجد کا گھر اور بنات کے مدرسے کی تعمیر کرنا


سوال

ہماری مسجد میں تعمیراتی کام جاری ہے ،جس میں ہمیں مسجد کی دوسری منزل کی چھت ڈلوانے کی مد میں کثیر رقم درکار تھی ،جس کے سلسلہ میں ہم نے کئی احباب سے رابطے کیے ،تو ایک صاحب نے اپنی ہمشیرہ سے 25 لاکھ روپے لے کر دیے ،اور بھی احباب نے تعاون کیا ،لیکن رقم اتنی جمع نہیں ہوسکی جتنی درکار تھی ،بہرحال ہم نے چھت کے پلر اور بیم ڈلوائے ،اس کے بعد تقریباً دس لاکھ روپے رہ گئے،جب کہ چھت کی بھرائی کے لیے ابھی بھی خطیر رقم درکار ہے ۔

چھت کی تعمیر کے ساتھ ہماری مسجد میں وضو خانہ کے اوپر مسجد کے امام صاحب کا گھر اور بنات کے مدرسہ کی تعمیر بھی جاری ہے ،تو ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ جو رقم مسجد کی چھت کی مد میں ہمارے پاس موجود ہے ،وہ اس کی تعمیر میں لگادیے جائیں ،تو کیا اس طرح ہم مسجد کی مد میں لی گئی رقم اس مدرسےاور امامِ مسجد کے گھر کی تعمیر میں لگاسکتے ہیں ؟یا اگر بطور قرض اس کو استعمال کرلیں ؟یا پھرجن لوگوں نے وہ رقم دی ہے ،ان سے اجازت لے کر استعمال کرلیں ؟جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب  مسجد کی دوسری منزل کی چھت کی تعمیر باقی ہے،اور چھت مسجد کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت بھی ہے ،تو ایسی صورت  میں لوگوں سے مسجد کی چھت کے لیے جمع کی گئی رقم کو مسجد کی چھت کی تعمیر میں خرچ کرناضروری ہے، چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغیر چھت کے لیے جمع کی جانے والی رقم مسجد کی دوسری ضروریات(مسجد کے امام صاحب کے گھر کی تعمیر)  میں یا مدرسہ کی تعمیر میں  خرچ کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر چندہ دینے والے   اس رقم کو  مسجد کے امام صاحب کے گھر کی تعمیر میں خرچ کرنے کی اجازت دے دیں، تو  پھر اس رقم کو مسجد کے امام صاحب کے گھر کی تعمیر میں  خرچ کرنا جائز ہوگا۔بصورت دیگر مسجد کی رقم مسجد کی تعمیر میں ہی استعمال کی جائے۔

فتاوی شامی ہے:

"فإذا أطلقها الواقف انصرفت إليها لأنها هي الكاملة المعهودة في باب الوقف، وإن كان الكامل عكسها في باب الصدقة فالتسوية بينهما غير صحيحة، على أنهم صرحوا بأن ‌مراعاة ‌غرض الواقفين واجبة".

(کتاب الوقف، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین واجبة،ج:4، ص:445، ط:سعيد)

وفيه ايضا:

‌"شرط ‌الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة".

(كتاب الوقف، مطلب في قولهم شرط الواقف كنص الشارع،ج:4،ص:433، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الخير الرملي: أقول: ومن اختلاف الجهة ما إذا كان الوقف منزلين أحدهما للسكنى والآخر للاستغلال فلا يصرف أحدهما للآخر وهي واقعة الفتوى. اهـ."

( کتاب الوقف،مطلب في نقل انقاض المسجد ونحوہ، ج:4، ص:361،ط:سعید)

امدادالاحکام میں ہے :

"مسجد کے چراغ کے لئے دی جانے والی رقم دوسرے مصرف میں خرچ نہیں کی جاسکتی

سوال:۔ بہ نیت چراغ مسجد میں پیسہ دیتے ہیں، اس پیسہ سے دوسرا کام جیسے بچھونا ، ستون خریدنا یا مؤذن وامام کا مشاہرہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ 

الجواب:۔جب پیسہ دینے والا چراغ مسجد کا نام لیتا ہے تو دسرے مصرف میں اس رقم کو صرف کرنا جائز نہیں ۔ اگر چراغ کے لیےضرورت کم ہو اور دوسرے کام کے لیےرقم کی ضرورت ہو تو پیسہ دینے والے سے بصراحت اجازت لینی چاہئے کہ اگر تیل کی ضرورت نہ ہو تو ہم اس رقم کو دوسرے مصارف مسجد میں صرف کردیں یا نہیں؟ اگر وہ اجازت دے دے تو پھر اس رقم کو صرف کرنا جائز ہوجائے گا۔

وفی الخلاصة: رجل قال: جعلت حجرتی لدھن سراج المسجد ولم یزد علی ھذا صارت الحجرۃ وقفًا علی المسجد اذا سلمھا الی المتولی ولیس للمتولی ان یصرف غلتھا الی غیر الدھن اھ۔ (ج:4،ص:442)  واللہ  اعلم ."

(امدادالاحکام،احکام المساجد،ج:3، ص:173 ،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504102544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں