بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کے ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی


سوال

  میرے داد ا  اور تایا دونوں نے  مرنے سے پہلے  یہ وصیت کی تھی  کہ ہماری جائیداد کاتیسرا حصہ  مدرسہ   اور مسکینوں کو دیا جائے، دادا نے بھی یہی وصیت کی تھی اور تایا نے بھی اپنے لیے یہی وصیت کی تھی،دادا  کی اولاد میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے تھے،  دادا  نے  ایک بیٹے کو وصی بنایا کہ اس وصیت کو نافذ کرے، اس نے نافذ نہیں کیا  اور معاملہ یوں ہی رہا،پھر تایا کی ورثاء میں صرف ایک اکلوتی بیٹی تھی ، اس لیے تایا نے ہم چار بھتیجوں کو  وصی بنایا،اب ہم اس وصیت کو نافذکرنا چاہتے ہیں تاکہ مزید تاخیر نہ ہو، نیز اس بات کی بھی رہنمائی فرمائیں  کہ  تایا نے  اپنے لیے الگ  بھی  اپنی جائیداد کی ایک تہائی  مدرسہ اور مسکینوں کو دینے کی وصیت کی ہے یہ دادا کی وصیت سے الگ ہے،مزید اس نے ایک درمیانہ بیل  ایک درمیانہ بکرا نذر مانے تھے، اور اس پر بتیس روزے بھی قضا ہیں اور کچھ قرضہ بھی ہے  ، یہ سب ہمیں  ادا کرنے کا کہہ کر انتقال کرگئے تھے، دادا  کے بیٹوں نے اس پر عمل نہیں کیا پھر انہوں نے ہمارے ذمہ لگایا، اب سوال یہ ہے کہ  یہ سب کچھ پہلے نکالنا ہے، اس کے بعد ایک تہائی والا وصیت نکالیں؟ یا یہ سب کچھ  تایا کے وصیت کے اس تیسرے حصے  میں ادا کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہےکہ  سائل کے دادا اورتایا کی مذکورہ وصیتوں کو شرعًا پورا کرنا ضروری تھا،بیٹوں نے جب پورا نہیں کیااوردادا کی میراث بھی اب تک تقسیم نہیں ہوئی، توتقسیم سے قبل  ان کے پوتوں پراس وصیت کو  پورا کرنا لازم ہے، دادا کی وصیت پر  عمل کرکے بقیہ دو تہائی  دادا کے ورثاء میں تقسیم کردیاجائے،اس کے بعد جو حصہ تایا کے حصے میں آئے اور اس کے علاوہ تایا کا جو ترکہ ہو، ان سب کو جمع کرکےپہلے تایا کا قرضہ ادا کیا جائے ، پھر بقیہ مال کے ایک تہائی  حصے میں تایا کی وصیت کو پورا کیا جائےگا،پہلے ان کے روزوں کا فدیا دیاجائے، پھر جو نذرانہوں نے مانی تھی اسے پورا کیا جائے،پھربھی اگر  تہائی مال پورا نہ ہواہو تو ان کی وصیت کے مطابق بقیہ مال مدرسہ  اور مسکینوں کو دیا جائے۔البتۃ واضح رہے کہ  تایا کے حصے  کو معلوم کرنے کے لیے  ورثاء کی تفصیل بتانا ضروری  ہے، اس لیے ورثاء کی تفصیل  کے ساتھ دوبارہ سوال جمع کرکے حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ 

الفتاوى الهندية میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين. ولاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."

(کتاب الوصایا ج نمبر ۶ ص نمبر ۹۰،دار الفکر)

تسہیل الفرائض میں ہے:

"يتعلق بالتركة خمسة حقوق مرتبة بحسب أهميتها كالآتي: مؤن تجهيز الميت: من ثمن ماء تغسيله، وكفنه، وحنوطه، وأجرة الغاسل، وحافر القبر، ونحو ذلك؛ لأن هذه الأمور من حوائج الميت، فهي بمنزلة الطعام والشراب واللباس والسكن للمفلسو ثم الحقوق المتعلقة بعين التركة: كأرش جناية العبد المتعلق برقبته، والدَّين الذي فيه رهن، وإنما قدمت على ما بعدها لقوة تعلقها بالتركة حيث كانت متعلقة بعينها.ثم الديون المرسلة التي لا تتعلق بعين التركة، كالديون التي في ذمة الميت بلا رهن، سواء كانت لله كالزكاة والكفارة، أم للآدمي كالقرض والأجرة وثمن المبيع ونحوهاو ثم الوصية بالثلث فأقل لغير وارث"۔

(تسهيل الفرائض وص11ور: دار ابن الجوزي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100486

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں