بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

موٹی فوم جو سجدہ کرنے سے دبتی نہ ہو،اس پر سجدہ کا حکم


سوال

سردیوں میں مساجد میں بچھی ہوئی فوم اتنی موٹی ہو کہ اس پر سجدہ کرنے سے وہ دبتی نہیں ہے،تو اس پر سجدہ کرنے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟ یا وہ فوم سخت تو نہیں ہے، مگر اس پر موٹا قالین ہونے کی وجہ سے اس کی نرمی محسوس نہیں ہوتی، کیااس  پر سجدہ درست ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسے  فوم   پر نماز پڑھنا جائز ہے جس پر سجدہ کرنے کی صورت میں سر زمین پر ٹک جائے، خواہ تھوڑا دباوٴ کے ذریعے ٹکے اور زمین کی سختی محسوس ہو ، البتہ اگرفوم اتنا دبیز(موٹا) ہو کہ سجدہ کرنے کی صورت میں  سر اس میں دھنستا ہی چلاجائے ،اور  سجدہ کرنے والے کا سر ایک جگہ پر ٹکے نہیں،  تو ایسے فوم پر سجدہ ادا نہیں ہوگا۔

اسی طرح اگر فوم تو  سخت نہ ہو،مگر اس پر موٹا قالین ہونے کی وجہ سے اس کی نرمی محسوس نہ ہوتی ہو،بلکہ سر زمین پر ٹک جاتا ہو،توا یسی صورت میں بھی اس پر سجدہ درست ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(لا) يصح لعدم السجود على محله وبشرط طهارة المكان وأن يجد حجم الأرض والناس عنه غافلون.

قوله(وأن يجد حجم الأرض) تفسيره أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة وحصير وحنطة وشعير وسرير وعجلة وإن كانت على الأرض لا على ظهر حيوان كبساط مشدود بين أشجار، ولا على أرز أو ذرة إلا في جوالق أو ثلج إن لم يلبده وكان يغيب فيه وجهه ولا يجد حجمه، أو حشيش إلا إن وجد حجمه، ومن هنا يعلم الجواز على الطراحة القطن، فإن وجد الحجم جاز وإلا فلا."

(کتاب الصلاۃ،باب صفة الصلاۃ،ج:1،ص:501،ط:سعید)

البحر الرائق  میں ہے:

"‌والأصل ‌كما ‌أنه يجوز السجود على الأرض يجوز على ما هو بمعنى الأرض مما تجد جبهته حجمه وتستقر عليه وتفسير وجدان الحجم أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك فيصح السجود على الطنفسة والحصيرة والحنطة والشعير والسرير والعجلة إن كانت على الأرض؛ لأنه يجد حجم الأرض، بخلاف ما إذا كانت على ظهر الحيوان؛ لأن قرارها حينئذ على الحيوان كالبساط المشدود بين الأشجار."

(کتاب الصلاۃ،باب صفة الصلاۃ،ج:1،ص:337،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی حقانیہ میں ہے:

’’سوال :ہمارے محلہ  کی مسجد میں ایک صاحبِ خیر نے نمازیوں کے لیے قالین بچھایا ہےجو بہت نرم ہے،کیا اس قالین پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب:نماز میں زمین پر سجدہ کرنا ضروری ہے،یعنی زمین کی صلابت اور سختی کا ادراک ضروری ہے،لہذا اگر قالین پر سجدہ کے دوران نیچے کی زمین کی سختی کا ادراک ہوسکتا ہو،تو نماز جائز ہے ،ورنہ نہیں ،چونکہ آج کل کے قالینوں میں زمین کی سختی کاادراک ہو تا ہے،اس لیے قالین ،کارپٹ ،دری وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے،البتہ موٹے اور لچک دار فوم پر نماز جائز نہیں۔‘‘

(کتاب الصلوۃ،باب شروط الصلوۃ وارکانہا،ج:3،ص:83،ط:مکتبہ سید احمد شہید اکوڑہ خٹک)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505102013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں