بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مورگیج پر گھر لینے کا حکم


سوال

یورپ ممالک میں مورگیج پر مکان لینا کیسا ہے؟

جواب

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں   جس میں سود کا لینا اور دینا دونوں شامل ہے، یعنی جس طرح سود پر قرضہ دینا حرام ہے، اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، لہذا اس قسم کے قرضہ لینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ ہاؤس مورگیج (mortgage) ایک سودی قرضہ ہے، جو  بینک  گھر خریدنے میں تعاون کے لیے رقم دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں، اس کا لین دین جائز نہیں ہے،   سود کا معاملہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، بے شمار قرآنی آیات اوراحادیث میں اس کی شناعت اور قباحت ذکر ہوئی ہے،لہذا یورپ میں مورگیج کے ذریعہ گھر خریدنا شرعاً جائز نہیں ۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(کتاب الحوالۃ،باب کل قرض جر منفعۃ،ج:14،ص:513،ادارۃ القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100994

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں