بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مرتد کی توبہ کا حکم


سوال

اگر کوئی بندہ مرتد ہونے کے بعد توبہ اور تجدید ایمان کرے، تو کیا وہ دوبارہ مسلمان ہوجائے گا اور اسے ایمان کی دولت مل جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ مرتد اگر صدق دل سے توبہ کرلے تو شرعاً اس  کی توبہ قبول  ہوجاتی ہے، لہذا   اگر کوئی شخص (العیاذ باللہ) مرتد ہونے کے بعد دوبارہ از سرِ نو کلمہ پڑھ لے اور جملہ عقائد پر ایمان لے آئے، تو وہ شخص شرعاً دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتاہے اور  توبہ کے بعد ایمان کی دولت مل جاتی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی کاارشادہے:

"ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ." (النحل،119)

ترجمہ : "پھرآپ کارب ایسے لوگوں کے لیےجنہوں نےجہالت سےبراکام کرلیاپھراس کے بعدتوبہ کرلی اورآئندہ کے لیےاپنے اعمال درست کرلیےتو آپ کا رب اس توبہ کےبعدبڑی  مغفرت کرنے والا بڑی  رحمت کرنے والا ہے۔"

دوسری جگہ ارشاد ہے:

"فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ."(المائدة، 39)

ترجمہ: "پھر جو شخص توبہ کرلے اپنی اس زیادتی کرنے کے بعد اور اعمال کی درستی رکھے تو بے شک اللہ تعالی اس پر توجہ فرمادیں گے بے شک خدا تعالی بڑی مغفرت والے ہیں بڑی رحمت والے ہیں"

حدیث شریف میں ہے:

"التائب من الذنب کمن لا ذنب له."

(ابن ماجه، کتاب الزھد، باب ذکرالتوبة، ص323، ط: قدیمی)

 فتاوی شامی میں ہے:

"(وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر."

(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 231، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"أن المرتد تقبل توبته كما نقله هنا عن النتف وغيره."

(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 234، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله وإسلامه أن يتبرأ عن الأديان كلها أو عما انتقل إليه) أي إسلام المرتد بذلك ومراده أن يتبرأ عن الأديان كلها سوى دين الإسلام... ‌وصرح ‌في ‌العناية بأن التبرؤ بعد الإتيان بالشهادتين وفي شرح الطحاوي سأل أبو يوسف كيف يسلم؟ فقال أن يقول: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، ويقر بما جاء من عند الله، ويتبرأ من الذي انتحله وقال: لم أدخل في هذا الدين قط، وأنا بريء منه."

(كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج: 5، ص: 138، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں