بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قرض لے کر مکان بنایا تو اس مکان کا کیا حکم ہے؟


سوال

 میرے والد صاحب ایک سودی بینک میں ملازم (منیجر) تھے۔ان کو بینک کی طرف سے ایک ہاؤس لون (گھر بنانے کے لیے قرضہ) ملا، جس سے انہوں نے جگہ بھی خریدی اور اس پر تعمیر بھی کی۔ بعد میں کچھ تعمیر میرے بڑے بھائی نے اپنی حلال کمائی سے کی۔ اب بڑے بھائی نے اپنا علیحدہ گھر بنا لیا ہے۔ بقیہ ہم دو بھائی (بچوں سمیت) ایک ہمشیرہ (بچوں سمیت) والدین کے ساتھ اسی گھر میں ہوتے ہیں۔ یہ گھر اب ہم سب کے لیے تنگ ہے اور ہم دونوں بھائیوں کی اتنی آمدن نہیں کہ علیحدہ گھر بنا سکیں یا کرایہ پر لے سکیں۔ اگر اس کو فروخت کریں تو اس سے آنے والی رقم کا کیا حکم ہو گا؟ کرایہ پر دیا جائے تو اس سے آنے والی آمدن کا کیا حکم ہو گا؟ (Lease)اگر دونوں صورتوں میں آمدن حرام ہے تو  اس کو جائز کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے مذکورہ گھر بنانے کے لیے بینک سے جو ہاؤس لون لیا تھا، اگر وہ سود پر لیا تھا تو والد نے سودی معاملہ کرنے کی وجہ سے سخت گناہ کا ارتکاب کیا تھا لیکن اس کی وجہ سے قرض کا معاملہ صحیح ہوگیا تھا، بعد میں سائل کے والد پر حلال مال سے قرض کی اصل رقم واپس لوٹانا ضروری تھا، زیرِ نظر مسئلے میں اگر انہوں نے اپنے کسی حلال مال سے قرض واپس کردیا تھا تو اس صورت میں مذکورہ مکان کا استعمال جائز ہے، بیچنے یا کرایہ پر دینے سے جو آمدنی حاصل ہوگی وہ بھی حلال ہوگی، لیکن اگر سائل کے والد نے اپنے حرام مال سے یعنی بینک کی سودی آمدنی سے قرض کی ادائیگی کی تھی تو اس صورت میں (سائل کے بھائی کی حلال کمائی سے تعمیر کردہ عمارت کے علاوہ) بقیہ  گھر کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے الا یہ کہ سائل کا والد (یا ان کی طرف سے کوئی بیٹا وغیرہ) قرض کی رقم کے برابر رقم حلال مال سے  غرباء میں صدقہ کرے، اتنی رقم صدقہ کرنے کے بعد مذکورہ مکمل مکان کا استعمال جائز ہوجائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال."

(کتاب القرض، ج: 7، ص: 396، ط: ایچ ایم سعید)

درِ مختار مع رد المحتار میں ہے:

"(القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو."

(کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج: 5، ص: 165، ط: سعید)

و فیہ ایضاً:

"(وما) يصح و (لا يبطل بالشرط الفاسد) لعدم المعاوضة المالية سبعة وعشرون ما عده المصنف تبعا للعيني وزدت ثمانية (القرض

(قوله القرض) ك أقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني سنة."

(کتاب البیوع، باب المتفرقات من ابوابہا، ص: 249، ط: سعید)

امداد الفتاوی میں ہے:

سوال: کوئی مسلمان کسی ہندو کے پاس سے کسی ضرورت کے موقع پر سودی قرض لیتا ہے اور اس سے اپنا بیو پار چلاتا ہے یا کوئی زمین خریدتا ہے، چند دن کے بعد وہ قرضہ مع سود کے ادا کردیتا ہے، اپنی ماندہ ملک کو پاک ملک سمجھتا ہے اور یہ بھی اعتقاد رکھتا ہے کہ سود کے دینے سے خود گناہ گار ہوا، مگر اس کی حرمت باقی ماندہ ملک میں سرایت نہیں کرے گی،(یہ)  خیال کرتا ہے، کیوں کہ یہ (اس) شخص (نے) سود دیا ہے لیا تو نہیں، پس اس ملک کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس شخص نے جو سمجھا ہے، صحیح ہے۔

(کتاب الربو، ج: 3، ص: 169، ط: مکتبہ دار العلوم، کراچی)

فتاوی شامی میں ہے:

"الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق بہ بنية صاحبه."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج: 5، ص: 99، ط: سعید)

و فیہ ایضاً:

"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."

(کتاب البیوع، باب المتفرقات من ابوابہا، ج: 5، ص: 235، ط: سعید)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں