بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

پراویڈینٹ فنڈ کاحکم


سوال

1- میں ایک ادارے میں کام کرتا ہوں جو کہ ماہانہ ہماری تنخوا سے کچھ رقم(بطور پراویڈینٹ فنڈ) کے  وصول کرتاہے  جو کہ ادارہ اپنے لازمی قانون کے تحت کاٹتا ہے۔ اس کی صورت کچھ یوں ہے کہ کچھ رقم ملازم کی اور کچھ رقم ادارے کی ملا کر بینک میں رکھ دی جاتی ہے جس پر بینک سالانہ منافع ادارے کو دیتا ہے اور وہ منافع ملازمین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جیسے واضح طور پر ادارے کی جانب سے Markup بتایا گیا ہے۔ واضح  رہے کے یہ تمام منافع نوکری کے اختتام پر ملازم کو دیا جائے گا ۔ ملازم کی انویسٹمٹ ادارے کی انویسٹمنٹ اور Markup منافع ملا کر جمع ۔مثال:ملازم کی Investment ہے 100 روپے اور ادارے کی Investment ہے ،100 روپے اب سالانہ Markup جو ملتا ہے وہ Percentage کی بنیاد پر کل جمع ہوکر  ملازم کو دیا جاتا ہے۔سوال:کیا یہ Markup لینا جائز ہے یا نہیں؟کیا یہ سود ہے؟

2- دوران ملازمت ادارہ ہمیں Loan لینے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ دیا گیا Loan ہمارے چھے ماہ کی تنخواہوں کی بنیادی تنخواھ کے برابر ہوگا اور Interest کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔ واضح  رہے کہ  Interest کا لفظ لکھا ہے  Loan واپسی میں۔ ادارہ Interest ہٹوانے کی سہولت دیتا ہے لیکن اس شرط پر کے ملازم کو Markup  منافع بھی نہیں ملے گا اس کے نوکری کے اختتام پر۔

کیا اس قسم کا Loan لینا جو معلوم نہیں اُدھار ہے یا قرض جائز ہے یا سود؟کیا Loan لیے بغیر نوکری کی اختتام پر Markup لینا جائز ہے ۔ چونکہ ملازمت کے دوران کبھی Loan نہیں لیا ؟

نوٹ:ادارے کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو بھی اتنا علم نہیں کہ کون سے بینک میں پیسہ جمع ہوتا ہے اور اس پیسے سےکس طرح کاروبار کر کے منافع کمایا جاتا ہے۔ لیکن سالانہ منافع رپورٹ میں انویسٹمنٹ کے حاشیے پر واضح Markup لکھا ہوتا ہے اور Loan والے حاشیے پر واضح Interest لکھا ہوتا ہے اگر Loan لیا گیا ہے تو۔

سالانہ منافع رپورٹ کی کاپی ساتھ منسلک ہے مزید وضاحت کے لیے۔

بینک کے حوالے سے اتنا ضرور معلوم ہے کے تمام ملازمین کا اکاؤنٹ ABL نامی بینک میں ہے جہاں سے ملازمین اپنی تنخوہیں وصول کرتے ہیں۔

برائے مہربانی وضاحت فرما دیجیے  جو میرے دین اور دنیا کے لیے بہتر ہے۔  مالک کُل کائنات ہمیں دین اسلام پر اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی تنخواہ سے اگر ماہانہ  کٹوتی کی جائے تو  اگر وہ کٹوتی جبری نہ ہو، بلکہ اختیاری ہو یعنی ملازم  کے اختیار  و رضامندی سے اس کی تنخواہ سے ماہانہ کٹوتی کی جاتی ہو ،تو جب اس کو ریٹائرمنٹ کے وقت اس کی وہ رقم واپس کی جائے گی تو اس کے لیے اس میں سے  اسی قدر لینا جائز ہو گا جتنی مقدار اس کی تنخواہ سے کٹی ہے ،اور جس قدر ادارے نے اپنی طرف سے بطور تبرع کے ملائی ہے۔اور ان دونوں رقوم پر جو اضافی رقم ملے گی وہ تشبہ بالربا ہونے  کی وجہ سے  لینا جائز نہ ہوگا ۔ اور اگر کمپنی کی طرف سے یہ کٹوتی اختیاری نہ ہو بلکہ جبری ہو کہ ملازم اگر اپنی تنخواہ سے مذکورہ رقم (پراویڈینٹ فنڈ) کے طور پر  نہ کٹوانا چاہے تو اس کو اختیار نہ ہو اور کمپنی اپنی POLICY کے تحت رقم کی کٹوتی کرے تو ایسی صورت میں ملازم کےلئے پورا فنڈ یعنی اپنی اور ادارے کی رقوم کے ساتھ اضافی رقم لینا بھی جائز ہوگا ۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ کٹوتی جبری ہونے کی وجہ سے سائل کے  لیے پورا فنڈ یعنی  اپنی اور کمپنی کی رقوم کے ساتھ اضافی رقم لینا بھی جائز ہے۔

2۔ادارے سے ادھار پیسے اس شرط پر لینا کہ واپسی کے وقت اضافی رقم بھی دینی ہوگی  تو یہ سود ہےجو کہ ناجائز ہے۔

حدیثِ  مبارک میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» . وقال: «هم سواء»."

(الصحیح لمسلم، 3/1219، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ط: دار إحیاء التراث ، بیروت. مشکاة المصابیح،  باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

الجامع الصغیر میں ہے:           

  "كل قرض جر منفعةً فهو ربا".

(الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیة، بیروت) 

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام   (5/ 166)،ط. سعيد،كراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100585

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں