بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ملازم یا نوکر کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟


سوال

 گھروں میں جو نوکر یا ملازم ہوتے ہیں جو پورا پورا سال ہمارے ہی پاس رہتے ہیں ان کی طرف سے بھی صدقہ فطر دینا ہے؟

جواب

صدقہ فطر صاحب نصاب  پر اپنی طرف سے ، نابالغ اولاد ،اور ان کے وہ غلام جو خدمت کے لیے ہو اس کی طرف سے ادا کرنا لازم ہے،بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سےادا کرنا لازم نہیں ہے،  اگر ادا کیاتو ادا شمار ہوگا،دوبارہ  ان کی طرف سے ادا کرنے کی ضرور ت نہیں ہے ،لہذا گھروں میں جو نوکر یا ملازم ہوتے ہیں اگرچہ  پورا پورا سال  صاحب مکان ہی کے پاس رہتے ہوں لیکن وہ مالک مکان کے زیرکفالت شمار نہیں ہوتے،  لہذا  ان کی طرف  سےگھر والوں پر ملازم کے طرف سے   صدقہ فطر ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

"وتجب عن نفسه وطفله الفقير كذا في الكافي والمعتوه والمجنون بمنزلة الصغير سواء كان الجنون أصليا أو عارضيا، وهو الظاهر من المذهب كذا في المحيط۔۔۔۔۔۔ويؤدي عن مملوكه للخدمة مسلما كان أو كافرا ويجب عن مدبريه وأمهات أولاده عندنا."

(کتاب الزکوۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج:1،ص:192،ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

وفیھا ایضا:

"والأصل أن صدقة الفطر متعلقة بالولاية والمؤنة فكل من كان عليه ولايته، ومؤنته ونفقته فإنه تجب عليه صدقة الفطر فيه، وإلا فلا كذا في شرح الطحاوي."

(کتاب الزکوۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج:1،ص:193،ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

ھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے :

"قال: " يخرج ذلك عن نفسه " لحديث ابن عمر رضي الله عنهما قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر على الذكر والأنثى الحديث " و "يخرج عن " أولاده الصغار " لأن السبب رأس يمونه ويلي عليه لأنها تضاف إليه يقال زكاة الرأس وهي أمارة السببية والإضافة إلى الفطر باعتبار أنه وقته ولهذا تتعدد بتعدد الرأس مع اتحاد اليوم والأصل في الوجوب رأسه وهو يمونه ويلي عليه فيلحق به ما هو في معناه كأولاده الصغار لأنه يمونهم ويلي عليهم " ومماليكه " لقيام الولاية والمؤنة وهذا إذا كانوا للخدمة."

(کتاب الزکوۃ،باب صدقۃ الفطر،ج:1،ص:113،ط:داراحیاء تراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101583

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں