بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

مولانا الیاس رحمہ اللہ کی دعوتی و اصلاحی ترتیب کا حکم


سوال

مولانا الیاس رحمہ اللہ کی نکالی ہوئی ترتیب گشت، مشورہ، سہ روزہ، چالیس دن، شرعاً ان کا درجہ کیا ہے فرض ، واجب ، سنت ، مستحب ، یا مباح ؟

جواب

آپ کے سوال کے جواب میں شہیداسلام حکیم العصر حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کی تحریرنقل کی جاتی ہے، امیدہے کہ آپ کے لیے تسلی بخش ہوگی۔ حضرت لدھیانوی رحمہ اللہ تبلیغی جماعت کے طریقہ کار سے متعلق لکھتے ہیں:

’’دین کی دعوت وتبلیغ تواعلیٰ درجے کی عبادت ہے،اورقرآنِ کریم اورحدیثِ نبوی میں جا بجا اس کی تاکیدموجودہے، دین سیکھنے اورسکھانے کے لیے جماعت تبلیغ وقت فارغ کرنے کا جومطالبہ کرتی ہے، وہ بھی کوئی نئی ایجادنہیں، بلکہ ہمیشہ سے مسلمان اس کے لیے وقت فارغ کرتے رہے ہیں۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تبلیغی وفودبھیجنا ثابت ہے۔ رہی سہ روزہ، ایک چلہ، تین چلہ اورسات چلہ کی تخصیص، تویہ خودمقصود نہیں، بلکہ مقصودیہ ہے کہ مسلمان دین کے لیے وقت فارغ کرنے کے تدریجاً عادی ہوجائیں اوران کورفتہ رفتہ دین سے تعلق اورلگاؤ  پیدا ہوجائے، پس جس طرح دینی مدارس میں نوسالہ، سات سالہ کورس (نصاب)تجویزکیاجاتاہے، اورآج تک کسی کو اس کے بدعت ہونے کا وسوسہ بھی نہیں،  اسی طرح تبلیغی اوقات کو بھی بدعت کہناصحیح نہیں‘‘۔

نیزایک مقام پرتبلیغی اجتماعات سے متعلق تحریرفرماتے ہیں:

’’تبلیغی جماعت کے اجتماعات بڑے مفیدہوتے ہیں، اور ان میں شرکت باعثِ اجر و ثواب ہے، اختتامِ اجتماع پرجودعاہوتی ہے، وہ مؤثر اور رقت انگیزہوتی ہے، اجتماع اور اس دعا میں شرکت کے لیے سفر باعثِ اجر و ثواب ہوگا، ان شاء اللہ‘‘۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس بحث میں الجھنا اصولاً درست نہیں ہے کہ سہ روزہ اور چلہ فرض ہے یا سنت یا بدعت؟ اصل حکم تبلیغِ دین  و  اِصلاحِ اعمال  ہے، اور اس کے لیے یہ ترتیب ایک وسیلہ ہے، اور ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز جس کا وسیلہ بنتی ہے وہ اس کے حکم میں ہوجایا کرتی ہے، جیسے حرام تک پہنچانے والا کام بھی حرام ہوگا، اسی طرح عبادت و نیکی تک پہنچانے والا کام بھی نیکی اور عبادت بن جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200701

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں