بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مولا علی کہنے کا حکم


سوال

میرا ایک دوست ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ یا علی مولا درست ہے اور کہہ رہے ہیں کہ علی کو رسولِ خدا نے مولا پکارا ہے ہم کیسے نہیں پکارے!   براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ "مولیٰ" کے متعدد معانی آتے ہیں، ان معانی میں سے کسی ایک معنی کو ترجیح دینے اور کہنے والے کی مراد سمجھنے کے لیے اس کلمہ کا استعمال، اس کا سیاق و سباق اور  سامعین نے  جملہ میں استعمال کے بعد اس کا  کیا معنی سمجھا ہے، اسے بھی جاننا ضروری ہوتا ہے۔

1:  حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق  "من كنت مولاه فعلي مولاه" والی روایت مختلف طرق سے  مختصر و طویل متن کے ساتھ متعدد کتب حدیث میں منقول ہے، ان تمام روایات کے مجموعہ کے سیاق و سباق اور پس منظر پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے "مولا"  کا لفظ  محب، دوست  اورمحبوب کے معنی میں استعمال فرمایا ہے، اور یہی معنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سمجھا تھا؛ لہذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے "مولا"  کا لفظ اسی معنی میں استعمال کرنا چاہیے۔

2:  "مولیٰ" کا ایک معنی سردار بھی آتاہے، اس معنی کے اعتبار سے بھی "مولا علی"  کہنا جائز ہوگا۔

تاہم چوں کہ "مولی علی" آج کے زمانے میں ایک راہ گم کردہ فرقے کا شعار بن چکا ہے، اور "مولی علی" کے الفاظ کے پیچھے ان کا ایک نظریہ چھپاہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد  ان کے خلیفہ بلا فصل تھے وغیرہ ؛ لہذا ان الفاظ کے استعمال  سے اجتناب کرنا چاہیے، خصوصاً ایسے مواقع پر جہاں سننے والے "مولا علی" کے مختلف معانی کے فرق اور پس منظر کو نہ سمجھتے ہوں، یااس لفظ کو سننے والے اپنی مخصوص نظریات کی اشاعت چاہتےہوں۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(وعن زيد بن أرقم) ذكره تقدم (أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " «من كنت مولاه فعلي مولاه» ") . قيل، معناه: من كنت أتولاه فعلي يتولاه من الولي ضد العدو أي: من كنت أحبه فعلي يحبه، وقيل معناه: من يتولاني فعلي يتولاه، كذا ذكره شارح من علمائنا. وفي النهاية: المولى يقع على جماعة كثيرة فهو الرب والمالك والسيد والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والخال وابن العم والحليف والعقيد والصهر والعبد والمعتق والمنعم عليه، وأكثرها قد جاءت في الحديث فيضاف كل واحد إلى ما يقتضيه.

الحديث الوارد فيه، وقوله: " من كنت مولاه ". يحمل على أكثر هذه الأسماء المذكورة. قال الشافعي - رضي الله عنه -: يعني بذلك ولاء الإسلام كقوله تعالى: {ذلك بأن الله مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولى لهم} [محمد: 11] وقول عمر لعلي: أصبحت مولى كل مؤمن [أي: ولي كل مؤمن] وقيل: سبب ذلك أن أسامة قال لعلي: لست مولاي إنما مولاي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال - صلى الله عليه وسلم -: " «من كنت مولاه فعلي مولاه» " " قضي " قالت الشيعة: هو متصرف، وقالوا: معنى الحديث أن عليا - رضي الله عنه - يستحق التصرف في كل ما يستحق الرسول - صلى الله عليه وسلم - التصرف فيه، ومن ذلك أمور المؤمنين فيكون إمامهم أقول: لا يستقيم أن تحمل الولاية على الإمامة التي هي التصرف في أمور المؤمنين، لأن المتصرف المستقل في حياته هو هو - صلى الله عليه وسلم - لا غير فيجب أن يحمل على المحبة وولاء الإسلام ونحوهما....."

وفیہ ایضاً:

"تمسكت الشيعة أنه من النص المصرح بخلافة علي - رضي الله عنه - حيث قالوا: معنى المولى: الأولى بالإمامة، وإلا لما احتاج إلى جمعهم كذلك، هذا من أقوى شبههم، ودفعها علماء أهل السنة بأن المولى بمعنى المحبوب وهو - كرم الله وجهه - سيدنا وحبيبنا، وله معان أخر تقدمت، ومنه الناصر وأمثاله، فخرج عن كونه نصًّا فضلًا عن أن يكون صريحًا ولو سلم أنه بمعنى الأولى بالإمامة، فالمراد به المال، وإلا لزم أن يكون هو الإمام مع وجوده عليه السلام فتعين أن يكون المقصود منه حين يوجد عقد البيعة له، فلا ينافيه تقديم الأئمة الثلاثة عليه لانعقاد إجماع من يعتد به حتى من علي ثم سكوته عن الاحتجاج به إلى أيام خلافته قاض على من له أدنى مسكة بأنه علم منه أنه لا نص فيه على خلافته عقب وفاته عليه السلام مع أن عليا - كرم الله وجهه - صرح نفسه بأنه صلى الله عليه وسلم لم ينص عليه ولا على غيره، ثم هذا الحديث مع كونه آحادًا مختلف في صحته، فكيف ساغ للشيعة أن يخالوا ما اتفقوا عليه من اشتراط التواتر في أحاديث الإمامة؟ ما هذا إلا تناقض صريح وتعارض قبيح (رواه أحمد) ، أي: في مسنده، وأقل مرتبته أن يكون حسنا فلا التفات لمن قدح في ثبوت هذا الحديث، وأبعد من رده بأن عليا كان باليمن لثبوت رجوعه منها وإدراكه الحج مع النبي صلى الله عليه وسلم و لعلّ سبب قول هذا القائل أنه وهم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال هذا القول عند وصوله من المدينة إلى غدير خم، ثم قول بعضهم إن زيادة: اللهم وال من والاه موضوعة مردودة، فقد ورد ذلك من طرق صحح الذهبي كثيرًا منها، والله أعلم."

(کتاب المناقب والفضائل،باب مناقب علي بن أبي طالب رضي الله عنه، ج:9، ص:3943، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں