بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

موجوده حالات ميں خوف كي وجه سے مسجد ميں باجماعت نمازچھوڑنے كاحكم


سوال

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ :کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ادام اللہ فیوضہم :کیاموجودہ بے یقینی کے حالات میں اس بناء پر کہ ذہن میں یہ تشویش ہو:کہ مسجد میں اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑوں گا تو کہیں دھماکہ نہ ہو جائیں یا شیعہ وغیرہ گھس قتل نہ کرے ، جماعت چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں ، جب تک ملکی حالات پر امن نہ ہو؟

جواب

الله تعالي كي ذات پر مكمل ايمان ركھتے هوءے نمازباجماعت مسجد ميں ادا كي جاءے، رسول الله صلي الله عليه وسلم نے عين ميدان جنگ ميں بلكه دشمنوں كے يك دم حملے كے خطرے كے وقت بھي (ميدان جنگ ميں) نماز خوف باجماعت ادا فرماءي هے اورہمیں اپنے نبوی کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جان کی حفاظت کا خوف طاری کرکے ہمیں مستقل نماز باجماعت سے محروم کردے۔. فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 143506200028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں